وفا کے قرینے

by Other Authors

Page 172 of 508

وفا کے قرینے — Page 172

حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ عنہ 172 ربوہ کے آسماں پر ٹوٹا مرا ستارہ مکرم شیخ نصیر الدین احمد صاحب ربوہ کے آسماں پر ٹوٹا مرا ستاره ہائے کدھر گئے وہ کر کے مجھے اشارہ تاریکیاں غموں کی بڑھنے لگیں فضا میں اب چاندنی کہاں کی جب چاند ہی سدہارا پیر غلام احمد ، ختم رسل کی خاطر وہ پہنچ گیا جو خاک میں ملا تھا ، آقا تھا وہ ہمارا ہے روحانی آسماں پر نقطہ وہی ہے جس سے عیسی نبی اتارا اللہ کی خلافت جاری ہے جو ازل سے اب بھی رہے گی جاری اس کا نہیں کنارا عدہ کیا جو اس نے ہو کر رہے گا پورا اللہ کی ہو نصرت ناصر ہے وہ ہمارا ٹھہرو نصیر سُننا کوئی پکارتا ہے ! آئی صدا کہاں سے کس نے تجھے پکارا اک تیرگی مٹا کر آنکھوں میں آگئے وہ آنکھوں نے جذب کر کے دل میں انہیں اتارا