وفا کے قرینے — Page 437
حضرت خلیفة المسح الامس ایدہ اللہ تعالی نصرہ العزیز 437 ہم اپنا انتخاب رشک قمر دیکھتے رہے مکرم محمد ابراہیم شاد صاحب روج الوان قلب المجر دیتے رہے و لوگ آسماں پہ ہم بھی تو اپنا رہے وہ آئے اور پھول بکھیرے ، چلے گئے پیار کی نظر سے سے ادھر دیکھتے ہم سب رہے رشک Bl رہے J۔ہے ہے ہیں مہر بلب شوق دید میں جب تک وہ بار بار ادھر دیا دیکھتے رعب جمال وحسن سے ہم ان کی بزم میں کچھ کر سکے نہ بات مگر دیکھتے رہے رہے ہم تو رواں ہیں منزل مقصود کی طرف کچھ لوگ دور گردِ سفر دیکھتے رہے باطل کے لشکروں کے مقابل پہ آج تک دین خدا کی فتح و ظفر دیکھتے رہے انجام ہر عید کا ہر ہم ہر عدد کو خاک آشکار رہے