وفا کے قرینے

by Other Authors

Page 357 of 508

وفا کے قرینے — Page 357

حضرت خلیفة المسیح الرابع رحم اللہ تعالی 357 خم ریزی سے جماعت کی ہؤا وہ شاد کام ڈھونڈتے پھرتے تھے تارے چھپ گیا ماہ تمام چھپ گیا جب چاند بعد اس کے خلافت آگئی یعنی پھر فضل خدا سے نیک ساعت آگئی شاہدانِ با صفا ، تاج خلافت کے گہر جاں ہتھیلی پر لئے پھرتے ہیں، بے خوف وخطر پھر خلافت کی قیادت میں ہوئے جاری مشن لشکر شیطان کی تیاریوں پر خنده زن ہے خلافت میں اطاعت دیں کا استحکام ہے! ہے یہی وعدہ خدا کا اور یہی انعام ہے آج بھی مغرب کی ہر وادی میں گونجی ہے اذاں عہد حاضر پر ہوا ہے ، عہد رفتہ کا گماں آج بھی سیل رواں رو کے سے رُک سکتا نہیں سُورج اپنی سر زمیں پر اب کبھی چھپتا نہیں اہل دنیا کی ترقی سے بڑھا ظلم و عناد آتی ہے تلاش امن لیکن ، بحرو بر میں ہے فساد ہے قصر خلافت سے ندا یہ بار بار ہیں درندے ہر طرف، میں عافیت کا ہوں حصار