وفا کے قرینے

by Other Authors

Page 62 of 508

وفا کے قرینے — Page 62

حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ 62 اب جو بھانڈا پھوڑ کر ہو بیٹھے ہم سے ہو جُدا اب بھی کچھ بگڑا نہیں آجاؤ از بهر خدا میں یہ کہتا تھا دلِ بیتاب پر آفت ہے کیا بیٹھا یہ جاتا ہے کیوں اس کا سبب علت ہے کیا کیوں گھلا جاتا ہے درد غم کی یہ حالت ہے کیا چارہ گر آکر بنا دے اس کی اب صورت ہے کیا یک بیک آئی در دل سے صدائے شاد باش قادیاں لے چل مجھے سُن لے دُعائے یاد باش سے دوا قادیاں ہے وہ جہاں رنجور پاتے ہیں شفا درد مندوں کو ملا کرتی ہے اس گھر۔قلب مومن پر چڑھا کرتا ہے یاں رنگ وفا دل میں جم جاتا ہے رہ کر اس جگہ نقشِ دُعا دل کے اندوہ و الم کافور ہو جاتے ہیں یاں آکے دلہائے حزیں مسرور ہو جاتے ہیں یاں اے مرے آقائے نعمت ! دل مجھے لایا یہاں للہ پھر مرے مولا نے پہنچایا یہاں میرا پھر چمکا ستارہ اور میں آیا یہاں دولت گم گشتہ اقبال کو پایا یہاں