وفا کے قرینے — Page 456
حضرت خلیفة اصبح الخامس ایدہ اللہ علی بنصرہ العزیز 456 خیر کا سر چشمہ مکرمہ امتہ الباری ناصر صاحبہ سو سال خلافت جو تسلسل سے رواں ہے دراصل مسیحا کی صداقت کا نشاں ہے انعام خداوندی ہے یہ دوسری قدرت سورة النور میں قرآں کا بیاں ہے اب عافیت و امن کا منبع ہے خلافت دنیا کے مفاسد سے اماں ہے تو یہاں ہے اس ڈھال کے پیچھے ہی ہر اک فتح و ظفر ہے اب دین کی واللہ خلافت میں ہی جاں ہے بنیاد ہیں اس قصر کی پُر درد دعائیں اخلاص و محبت کا نرالا ہی سماں ہے پیوستگی اس پیڑ سے ضامن بقا کی ہے سچ ہی تو کہا جاتا ہے جاں ہے تو جہاں ہے بیعت نے اُبھارا ہے نیا رنگ عقیدت اس دور میں یہ رنگ کہیں اور کہاں ہے ہے خیر کا سر چشمہ دعاؤں کا ادارہ یہ دل ، خلیفہ کا یا تقویٰ کا مکاں ہے