وفا کے قرینے

by Other Authors

Page 21 of 508

وفا کے قرینے — Page 21

حضرت خلیفہ مسیح الا ول رضی اللہ عنہ 21 21 حفظ ناموس خلافت کا اُسے رہتا تھا پاس اپنے رکردار و عمل سے رکھ گیا محکم آساس قدرت ثانی کو تھا وہ جانتا قدرت کا ہاتھ جس کا مطلب تھا کہ وہ محفوظ جو ہے اسکے ساتھ نطق روشن سے جہاں میں اک اُجالا کر گیا وہ خلافت کا ابد تک بول بالا کر گیا میرے نور الدین ! بے شک تا ابد زندہ ہے تو ! تو ہے اسم با مسمی کہ درخشندہ ہے تو! تھا ترا فقر و توکل لا جرم ایماں فروز سیرتِ اقدس تیری ہے بخشتی ہر دل کو سوز چشم دل سے دیکھتا تھا تو خدا کو ہر گھڑی ہو گئی کافور یکدم جو بھی مشکل آپڑی مہدی برحق کا تھا تو اک مثالی جاں نثار تیری سیرت پڑھنے والوں کو ہے آجاتا خُمار ہاں ترے فقر و غنا کی اک نرالی شان تھی! تیری ہر حرکت کا محورِ قوتِ ایمان تھی! جنت الفردوس میں رتبہ ترا ممتاز ہو! سُوئے سدرہ رُوح تیری کی سدا پرواز ہو!