وفا کے قرینے — Page 440
حضرت خلیفة المسح الامس ایدہ اللہ تعالی نصرہ العزیز 440 ہر قدم پر ساتھ ساتھ اپنے ہمیں تو پائے گا نقدِ جاں حاضر رہے کی ہر وفا تو پائے گا محترمہ شہناز اختر صاحبہ خلافت کی غلامی ہے ضمانت تیری قربت کی ہمیں بھی اس کے قدموں کی ہمیشہ خاک پا رکھنا اگر نورِ نبوت سے منور جنگ کو کرنا ہے تو روشن ہر جگہ ہر دم خلافت کا دیا رکھنا اگر ہے تم کو ملنا اولیس سے ! آخریں ہو کر خلافت کی امانت سے دلوں کو آشنا رکھنا کلیساؤں کی دنیا کی صلیبیں جس نے توڑی ہیں ہمارے سر پہ اس مہدی کی تو ہر دم ردا رکھنا