وفا کے قرینے — Page 432
حضرت خلیفة المسح الامس ایدہ اللہ تعالی نصرہ العزیز 432 قرب پانے کا میداں تھا خالی پڑا، کام تھا پر کڑا عشق کے تو نے ہم کو سکھائے چلن قدرت ثانیہ قدرت ثانیہ پڑھ کے کلمہ جو باندھا ہے عہد وفا یاد ہے بخدا اپنے ہر قطرہ خوں میں ہے موجزن قدرت ثانیہ قدرت ثانیہ نیک فطرت جو تھے کھینچ کے خود آگئے زندگی پا گئے لگ گئی سب کو عشق خدا کی لگن قدرت ثانیہ قدرت ثانیہ اس مکاں میں بہت چین و آرام ہے۔عشق ہی کام ہے دور کرتی ہے سارے عموم وحزن قدرت ثانیہ قدرت ثانیہ مکرم انور ندیم علوی صاحب ہے محبت کا کرشمہ فاصلوں کے باوجود ایک لمحہ میں اسے اور وہ مجھے بھولا نہیں وہ بہاروں کا پیمبر وہ محبت کا سفیر کتنے ہی موسم ہیں بدلے وہ مگر بدلا نہیں