وفا کے قرینے — Page 431
حضرت خلیفة اصبح الخامس ایده ال تعالى بنصرہ العزیز 431 قدرت ثانیہ مکرمہ ارشاد عرشی ملک صاحبه فضل رتی سے ہے ہم یہ سایین قدرت کا یہ قدرت ثانیہ کر دیا ساری دنیا کو اپنا وطن قدرت ثانیہ قدرت ثانیہ وعده دائمی کا بھی دن آگیا عہد ایفاء ہوا ایک اک لفظ پورا ہوا من وعن قدرتِ ثانیہ قدرتِ ثانیہ ہاتھ سے ہم پہ ڈالی خدا نے ردا گود میں لے لیا رحمتوں کے سمندر میں ہم غوطہ زن قدرت ثانیہ قدرت ثانیہ علم کی آندھیوں سے نہیں کچھ زیاں۔سر پہ ہے سائیاں اپنے سر کی ردا تن کا ہے پیرہن قدرت ثانیہ قدرت ثانیہ ہم نے خوں سے لکھی داستانِ وفا وقت خود ہے گواہ ہم نے ہر گام چومے ہیں دار و رسن قدرت ثانیہ قدرت ثانیہ مال و جاں سب خلافت پہ کر دو فدا ہے یہ سودا کھرا دین کی شان ہے دیں کا ہے بانمکین قدرت نامی قدرت ثانیہ جھوٹی خوشیاں مخالف کی پامال ہیں ، غم کے جنجال ہیں اپنے چاروں طرف اک حصار من قدرت ثانیہ قدرت ثانیہ ہم جو بے گھر ہوئے تھے خدا کے لئے فضل اس نے کئے ساری دنیا بنی اپنے گھر کا محن قدرت ثانیہ قدرت ثانیہ