وفا کے قرینے — Page 424
حضرت خلیفة المسح الامس ایدہ اللہ تعالی نصرہ العزیز 424 بن تیرے نہ کوئی چاہت ہے نہ اور کسی کی طاعت ہے! مکرم سید محمود احمد صاحب یہ تیری کرامت ہے پیارے جو دشت کو سبزہ زار کیا اس بستی کو آباد کیا، ہر صحرا کو گل زار کیا قادر کی پہلی قدرت نے ہر وحشی کو انسان کیا قادر کی دوسری قدرت نے ہر پت جھڑ کو گلبار کیا ہر ایک نظر نے دیکھا ہے تم کتنے پیارے محسن ہو ہر باغ سے پھول چنے تم نے ہر دل کو لالہ زار کیا تری پیار بھری اس قربت نے اور پاک مطہر صحبت نے ان لوگوں کو اس دنیا کی آلائش سے بیزار کیا بن تیرے نہ کوئی چاہت ہے نہ اور کسی کی طاعت ہے بس ہاتھ پہ رکھ کے ہاتھ ترے یہ ہم نے ہے اقرار کیا ہر حکم پہ تیرے سب کے سب ہی جان لٹانے والے ہیں ان تیرے چاہنے والوں نے اس بستی کو گلنار کیا ہم مجبوروں نے اے جاناں ! ظلمت میں دیپ جلائے ہیں ان دیپ جلانے والوں نے تجھے یاد ہے لاکھوں بار کیا ہم لوگ محبت کرتے ہیں ترے پیار کی مالا جیتے ہیں ترے پیار کی خوشبو سے ہم نے سب جگ کو عنبر بار کیا