وفا کے قرینے

by Other Authors

Page 414 of 508

وفا کے قرینے — Page 414

حضرت خلیفة المسح الخامس ایده ال تعالى بنصر العزيز 414 ردائے خلافت کا حصار مکرم عبدالصمد قریشی صاحب یہ سب اس کا کرم ہے دیار یار میں ہیں خطا کار کس شمار میں ہیں وگرنہ ہم وہ جس کی چھاؤں میں اب چین اور راحت ہے ہم عافیت کے اسی شجر سایہ دار میں ہیں یہ خوشبوؤں سے معطر ہے جس کی ساری فضا خدا کا شکر کہ اس گلشنِ بہار میں ہیں خوشی سے کیوں نہ کریں ناز اپنی قسمت پر وہ خوش نصیب جو اس محفلِ قرار میں ہیں وہ جس کے فیض سے روشن ہیں آگہی کے چراغ ہم علم و فضل کی اس بزم افتخار میں ہیں ملے ہیں سارے ثمر جس کی برکتوں کے طفیل اسی ردائے خلافت کے ہم حصار میں ہیں یہ جان و دل سبھی تجھ پر شار ہیں آقا ترے غلام ہیں ہم ترے اختیار میں ہیں