وفا کے قرینے — Page 17
حضرت خلیفہ اصبح الاول رضی اللہ عنہ 17 مکہ و میثرب میں توفیق ریاضت بھی ملی حاجی الحرمین ہونے کی سعادت بھی ملی بعد اک عرصہ کے آیا وہ وطن کو لوٹ کر شام کو آتا ہے جوں بلبل چمن کو لوٹ کر یاوری قسمت نے کی وہ بن گیا شاہی طبیب جا بسا کشمیر میں بالآخرش مردِ نجیب اُس زماں میں میرزا کو دعویٰ الہام تھا مصطفی کے منکروں کو زیر کرنا کام تھا گرز بُرہان قوی سے توڑتا تھا وہ صنم ہاں مثال تیغ دو دم چلتا تھا اُس کا قلم دین حق کی کرتا تھا ثابت جہاں میں برتری دم دبا کر بھاگ جاتے تھے وہ پنڈت ، پادری گیا قسمت سے اُس کو میرزا کا اشتہار جس کو پڑھ کر آگیا وہ قادیاں دیوانہ وار حضرت اقدس سے یوں ملنے کا ساماں ہو گیا دیکھتے ہی جس کو وہ سو جاں سے قرباں ہو گیا آنکھ متوالی تھی اسکی حق کے درین کے لئے آگیا کشمیر سے مرزا کے درشن کے لئے