وفا کے قرینے

by Other Authors

Page 386 of 508

وفا کے قرینے — Page 386

حضرت خلیفة المسح الخام ايده الله تعالى نصره العزيز 386 خوف کے بعد امن محترم انور ندیم علوی صاحب سانسوں میں بسنے والے کیوں دور ہو گئے ہیں مولا! فقیر تیرے رنجور ہوگئے ہیں نہ دیکھا اتنا اداس ربوہ پہلے کبھی اس کی رضا کے ہاتھوں مجبور ہوگئے ہیں یہ آس تھی اچانک لندن سے آئیں گے وہ خوابوں کے آئینے بھی سب چور ہو گئے ہیں ہجر و وصال کے میں دُکھڑے سناؤں کس کو انساں تو کیا شجر بھی مہجور ہو گئے ہیں حق بات کہہ رہے ہیں ، ہر لمحہ زندگی کا غم کی صلیب پر ہم ' منصور ہو گئے ہیں کرب و بلا میں لیکن کب اس نے ہم کو چھوڑا دکھ درد سارے دیکھو کافور ہو گئے ہیں آؤ ندیم ! پھر تجدید ہو وفا کی دل نور سے یقیں کے ، پُر نور ہو گئے ہیں