وفا کے قرینے

by Other Authors

Page 362 of 508

وفا کے قرینے — Page 362

حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحم الله تعالی 362 مائدے جتنے ثریا سے اتارے، دے گیا! مکرم جمیل الرحمن صاحب، ہالینڈ چشم بینا کے لئے کیا کیا نظارے ، دے گیا ! اس کے دامن میں تھے جتنے پھول سارے، دے گیا! آنسوؤں سے کر رہی ہے ہر نظر دل کا حساب کیسے کیسے وہ سبھی کو گوشوارے ، دے گیا ! میں وہ خوش قسمت کہ جس کا ہم زبان و ہم سخن اپنی یادوں کے خزانے ڈھیر سارے، دے گیا! منتشر ذہنوں کو یکسو کر گئی اُس کی صدا ہر بھٹکتی ناؤ کو سمت و کنارے ، دے گیا ! مفلسوں کو زندگی میں سر چھپانے کے لئے وہ بیوت الحمد کے تحفے نیارے ، دے گیا! ریڈیائی لہر کے تخت رواں پر جلوہ گر مائدے جتنے ثریا سے اتارے ، دے گیا ! ނ علم کی ہر یک گرہ کو ناخن دانائی اس طرح کھولا سمجھنے کے اشارے ، دے گیا ! سلک جاں ٹوٹی تو دیکھا دیکھنے والوں نے پھر آفتاب اپنے عوض کتنے ستارے ، دے گیا !