وفا کے قرینے

by Other Authors

Page 344 of 508

وفا کے قرینے — Page 344

حضرت خلیفة المسیح الرابع رحم اللہ تعالی 344 سنجل کر مسکرا کر، راہ حق میں رکھ قدم اے دل سنجل یوں جیسے دیوانہ کوئی ہوشیار ہو جائے! بہر جانب مجھے تو دعوتِ حق آج دینا ہے نہیں پرواہ مری ہستی ذلیل و خوار ہو جائے! سنجل اے دل دعائیں کر ابھی کچھ دور ہے منزل یہ ہو سکتا ہے کوئی نا گہانی وار ہو جائے! الہی مجھ کو وابستہ شجر سے حشر تک رکھنا شجر پھولے پھلے اور خوب سایہ دار ہو جائے! مرے دامن میں ڈھیروں پھول برکات خلافت کے یہ وہ دامن نہیں الجھے، الجھ کر تار ہو جائے! کوئی سجدوں میں گر کر رو رہا ہے گڑ گڑاتا ہے خدایا آدمی کو آدمی سے پیار ہو جائے! ہے بہت طوفان ہے، یہ کشتی نوح کا کھویا خدایا احمدیت کا سفینہ پار ہو جائے! بچایا جائے گا وہ جو بھی اس کشتی میں آئے گا جسے ہمراہ چلنا ہو، ابھی تیار ہو جائے! جو ہم کو آزماتے، طنز کے نشتر چھوتے ہیں ہماری خامشی ان کے لئے گفتار ہو جائے!