وفا کے قرینے

by Other Authors

Page 332 of 508

وفا کے قرینے — Page 332

حضرت خلیفة المسیح الرابع رحم اللہ تعالی 332 آسماں کی ہے زباں یارِ طرحدار کے پاس ! مکرم عبید اللہ علیم صاحب نوروں نہلائے ہوئے، قامت گزار کے پاس! اک عجب چھاؤں میں ہم بیٹھے رہے یار کے پاس! اس کی ایک ایک نگہ دل پر پڑی ایسی کہ بس! عرض کرنے کو نہ تھا کچھ لب اظہار کے پاس! یوں ہم آغوش ہوا مجھ سے کہ سب ٹوٹ گئے جتنے بھی بت تھے ہم خانہ پندار کے پاس! تم بھی اے کاش کبھی دیکھتے سنتے اس کو آسماں کی ہے زباں، یار طرحدار کے پاس! یہ محبت تو نصیبوں سے ملا کرتی ہے چل کے خود آئے مسیحا ، کسی بیمار کے پاس! یونہی دیدار سے بھرتا رہے یہ کاسئہ دل یونہی لاتا رہے مولا ، ہمیں سرکار کے پاس! پھر اسے سایۂ دیوار نے اُٹھنے نہ دیا آکے اک بار جو بیٹھا ، تری دیوار کے پاس!