وفا کے قرینے — Page 232
حضرت خلیفة المسیح الثالث رحم اللہ تعالی 232 خلافت مکرم عبدالسلام اختر صاحب یہ حسن مدعا پر ہے نہ شان ارتقاء پر ہے! و ہی زندہ ہے، ایماں جس کا اک زندہ خدا پر ہے رضا حق کی ہے یہ قائم ہو آئین جہاں بندی اخوت کی جہانگیری نظر کی آرزو مندی سعادت اور اطاعت کا سبق یوں حق نے سکھلایا لَهُ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الأَرْضِ ، کہہ کر آپ فرمایا اگر اک مرکز وحد وحدت نہ ہو بیدار و پائنده جہاں میں رہ نہیں سکتی کبھی انسانیت زندہ اُسی نے فطرتِ انساں کو ہر ظلمت سے دھویا ہے ہر اک چھوٹے بڑے کو ایک رشتے میں پرویا ہے جہاں خورشید وحدت کی درخشانی نہیں ہوتی وہاں ظلمت ہوا کرتی ہے تابانی نہیں ہوتی چمن خود نکہت گل سے گل و گلزار ہوتا۔ہے نکل جاتی ہے جب خوشبو، تو گل بے کار ہوتا ہے اسی سے اہل حق کی امتیازی شان ، زندہ ہے یہ زندہ ہے تو دیں زندہ ہے، اور ایمان زندہ ہے