وفا کے قرینے

by Other Authors

Page 184 of 508

وفا کے قرینے — Page 184

حضرت خلیفہ امسیح الثالث رحم اللہ تعالی 184 تشنہ روحوں کو پلا دو شربت وصل و بقا حضرت مرزا ناصراحم خلیفہ المسح الثالث رحمہ اللہ کے مصرع کی تضمین ، یہ مصرع حضور کو خواب میں بتلایا گیا تھا“ حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ نب سے تجویز سفر تھی سب تھے مصروف دعا خود امیر المؤمنیں اور ہر غلام باوفا یا الہی خیر ہو آئیں بصد فتح و ظفر دردِ دل سے تھی حضور ذات باری التجا طالب نَصْرُ، مِّنَ اللَّهِ سائِلِ فَتْحٌ قَرِيبٌ روز و شب رہتا تھا سالار سپاہ مصطفی ری رحمت حق جوش میں آئی یہ حالت دیکھ کر تسکین و سکوں مولا نے یہ مشردہ دیا پہر ی نصرت ہم قدم ہے فضل میرا ہم نفس جا سفر تیرا مبارک کر دیا مبارک زباں تیری ، قلم تیرا ، ترے قلب و دماغ ہیں کبھی میرے تصرف میں ، تجھے پھر خوف کیا کہہ چکا ہے رحمت عالم کا فرزند جلیل ہم ہوئے دلبر کے اور دلبر ہمارا ہو گیا کام کو جس کے چلا ہے خود وہ تیرے ساتھ ہے اے مرے ناصر ہے تیرا حافظ و ناصر خدا ,