وفا کے قرینے

by Other Authors

Page 366 of 508

وفا کے قرینے — Page 366

حضرت خلیفة المسیح الرابع رحم اللہ تعالی 366 اک نور سا چہرہ جب مٹی میں سلا آئے مکرمہ امتہ الرفیق ظفر صاحبہ، کینیڈا اُٹھتا ہے دھواں دل سے جب یاد تری آئے آنکھوں سے بہیں آنسو، دل درد سے بھر آئے یادوں کے دیئے روشن ہیں ذہن کی چوکھٹ پر اک ٹور کے سانچے میں جب چہرہ وہ ڈھل جائے اے جانِ بہاراں تو ، اس باغ کی رونق تھا ہر پتہ ہے افسردہ اور پھول ہیں کملائے خوشبوتری ایم ٹی اے ہر گھر میں بکھیرے ہے ، چاند سا چہرہ جب آنگن میں اتر آئے وہ اک نُور کا منبع تھا ، اک پیار کا ساگر تھا بھر لیتے تھے جام اپنے ہر روز گئے آئے تو عزم کا جوہر تھا ہمت تھی جواں تیری دشمن کے مقابل پر تو جان بھی وار آئے اے نُورِ ہدایت تُو ، دریائے خطابت تھا جب پھول جھڑیں منہ سے منبر کو بھی پیار آئے - طاہر تھا ، مطہر تھا ، سرتا پا مُبارک تھا ملتا ہے سکوں دل کو جب نام ترا آئے