وفا کے قرینے — Page 367
حضرت خلیفة المسیح الرابع رحم اللہ تعالی 367 اک فیض کا چشمہ تھا اس دور ضلالت میں پیغام محبت کا ہر سمت سُنا آئے ہر آنکھ تڑپ اُٹھی بے قابو ہوا ہر دل اک نور سا چہرہ جب مٹی میں سلا آئے آنا بھی مبارک تھا، جانا بھی تھا شاہانہ لشکر بھی فرشتوں کے لوگوں کے سوا آئے اک نُور سا اُبھرا ہے خوشیوں کا سویرا ہے دے دل کو تسلی اب ، نہ خوف بلا آئے مسرور کی آمد ہے ، رحمت کا اُجالا ہے اک صبح یقیں پھر سے ، اے میرے خدا آئے خلافت کی ردا اوڑھے اب نصرتِ حق آئی پھر عرش سے ٹکرا کر مضطر کی دُعا آئے