وفا کے قرینے — Page 247
حضرت خلیفہ امسیح الثالث رحمه الله تعالی 247 (3) جو ہے حق انداز تبلیغ ادار یوں کیا دیں کہ گونج اُٹھی مغرب کی فرشتے بھی سرز میں نے وہ کہتے ہیں صد آفریں ہے میں ظفر کیوں نہ تیرے غلاموں میں ہو کہ تیرا مقدر (4) یہ میری نہیں کی آواز ہے ،روح، یہ نغمہ مرے دل میری دوست ملت کا اک ساز ہے دھڑکن سہی تیری محبت کا اعجاز ہے پہ تیری ہیں ہم اسیران زنجیر ألفت اطاعت (5) تیری ہمیں ناز ہے اُٹھیں پھر کہ وقتِ قیام آگیا شب جان وہ ہجر کی ظلمتیں چھٹ کمر باندھ کر ستاروں میں میں میں اب سبھی چل پڑیں وہ امام آگیا ماه تمام آگیا وہ قائد تیز گام آگیا