اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 591 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 591

اسوہ انسان کامل 591 رسول کریم کی حیاداری 16 اٹھاتے تھے جب تک زمین کے قریب نہ ہو جائیں۔(ترمذی) 13 حضرت عبداللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم اپنے حجروں کے اندر پردے میں اس طرح غسل فرماتے تھے کہ کبھی کسی نے آپ کو ننگے بدن نہیں دیکھا۔(بیشمی ) 14 میاں بیوی کے انتہائی قربت کے تعلقات کے باوجود حضرت عائشہ کی اس روایت سے رسول کریم کے حیاء کی شان معلوم ہوتی ہے کہ انہوں نے کبھی رسول کریم کی شرمگاہ نہیں دیکھی۔(ابن ماجہ ) 15 ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے وہ اپنے بھائی کو اس کے شہر میلے پن کی وجہ سے سرزنش کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ تم تو اتنا شر ماتے ہو کہ اس میں اپنا نقصان کر بیٹھتے ہو۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ٹو کا اور فرمایا اسے کچھ نہ کہو۔حیاء سے منع نہ کرو کیونکہ حیاء ایمان کا حصہ ہے۔(بخاری) شرع میں شرم نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حصول علم دین اور شرع کی باتوں میں یہ پسند نہیں فرماتے تھے کہ حیاء کی وجہ سے کوئی روک پیدا ہو۔حضرت عائشہ مدینہ کی مسلمان خواتین کی تعریف فرماتی تھیں کہ انصار کی عورتیں کتنی اچھی ہیں۔حیاء انہیں مسائل دین سیکھنے میں مانع نہیں ہوتا۔( بخاری ) 17 ایک دفعہ رسول اللہ نے اپنی مجلس میں سوال کیا کہ وہ کون سا درخت ہے جس سے مومن کی مثال دی جاسکتی ہے اس درخت کی کوئی چیز ضائع نہیں ہوتی۔صحابہ مختلف درختوں کے نام لینے لگے۔حضرت ابن عمر کہتے ہیں مجھے خیال آیا کہ یہ کھجور کا درخت ہے مگر شرم سے کہہ نہ سکا۔حضرت عمر نے بعد میں کہا اگر تم بتا دیتے تو مجھے دنیا اور اس میں موجود تمام دولتوں کے مل جانے سے بڑھ کر خوشی ہوتی۔( بخاری ) 18 اس حدیث سے ظاہر ہے کہ علم اور حق باتوں میں حیاء مناسب نہیں۔حضرت سہل بن سعد بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم بہت حیادار تھے۔جب بھی آپ سے کوئی سوال کیا جاتا آپ کچھ نہ کچھ ضرور عطا فرماتے تھے۔(حاکم)19 حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ نبی کریم کو جب کسی شخص کے بارے میں کوئی شکایت پہنچتی تو آپ کبھی اسے مخاطب کر کے یہ نہیں فرماتے تھے تم نے یہ یہ کہا ہے۔(ابو داؤد ) 20 نبی کریم اپنے حیاء کی وجہ سے کسی کی طرف ٹکٹکی باندھ کر نہیں دیکھتے تھے اور مجبوراً کسی کی کوئی نا پسندیدہ بات بیان کرنی پڑے تو اشارہ کنایہ میں بیان کر دیتے تھے۔(ابن سید ) 21 حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم نے ایک آدمی پر زرد رنگ کے نشان دیکھے تو اسے نا پسند کیا مگر خود حیاء کے باعث منع نہ کیا۔صحابہ سے فرمایا آپ لوگ اسے سمجھا دو کہ ہاتھوں سے رنگ دھوکر صاف کردے تو مناسب