اسوہء انسانِ کامل — Page 590
اسوہ انسان کامل 590 رسول کریم کی حیاداری اُٹھا رہے تھے ہر ایک اپنا تہبند اتار کر کندھے پر رکھ کر پتھر ڈھورہا تھا۔میں نے بھی ایسا کیا تو کسی نے مجھے پیچھے سے ہاتھ مار کر کہا کہ اپنا تہبند باندھ لو۔چنانچہ میں نے چادر پہن لی اور کندھے پر پتھر اٹھاتا رہا۔میرے ساتھیوں میں سے صرف میں نے نہ بند باندھ رکھا تھا۔(ابن ہشام) 7 حضرت ابن عباس کی روایت ہے کہ جب ابوطالب نے زمزم کے کنویں کی مرمت کی ، نبی کریم کم سن تھے۔آپ بھی مدد کے لئے آئے اور اپنی چادر اتار کر کندھے پر رکھ لی اور پتھر اٹھا کر لانے لگے کہ اچانک آپ پر غشی طاری ہوگئی کسی نے ابوطالب کو خبر کی انہوں نے آکر پوچھا تو آپ نے بتایا ایک سفید کپڑوں والا شخص آیا اور اس نے مجھے کہا کہ اپناستر ڈھانکو۔حضرت ابن عباس کہتے تھے یہ رسول اللہ کا پہلا الہام تھا کہ شرمگاہ کا پردہ کریں۔اس کے بعد کبھی آپ کو بغیر کپڑے پہنے نہیں دیکھا گیا۔(حاکم)8 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق فاضلہ کی جڑ تو صفات الہیہ میں ہی تھی اور اللہ تعالیٰ کی صفت حیاء بھی آپ کے اندر بدرجہ اتم پائی جاتی تھی۔قرآن شریف میں آپ کی صفت حیاء کا ذکر ایک پاکیزہ خلق کے طور پر کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ خودمومنوں کو نبی سے ملاقات کے وہ آداب تعلیم فرماتا ہے جن کو سکھاتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حیاء اور لحاظ مانع ہوتا تھا، مگر اللہ کے حکم سے آپ کو یہ کہنا پڑا کہ اے مومنو! نبی کے گھر میں داخل نہ ہوا کر وسوائے اس کے کہ تمہیں کھانے وغیرہ کے لئے بلایا جائے۔تم کھانے کے انتظار میں زیادہ دیر نہ ٹھہرے رہا کرو بلکہ جب تم کو بلایا جائے تو آجاؤ، اور جب کھانا کھالو تو پھر منتشر ہو جاؤ اور لمبی باتیں شروع نہ کر دیا کرو۔یہ بات نبی کو تکلیف دیتی ہے مگر وہ (خود) تم سے حیاء ( کرتے ہوئے اظہار نہیں کرتا۔مگر اللہ تو حق بیان کرنے سے رکتا نہیں۔“ (سورۃ الاحزاب: 54) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حیاء کی بہت برکات بیان کی ہیں۔ایک دفعہ آپ نے آداب مجلس بیان کرتے ہوئے ذکر فر مایا کہ تین آدمی ایک مجلس میں آئے اور رسول اللہ کی باتیں سننے لگے، ایک تو واپس چلا گیا۔باقی دو میں سے ایک آگے جا بیٹھا، دوسرے نے مجلس میں جہاں خالی جگہ پائی بیٹھ گیا۔اسے حیاء آئی کہ لوگوں کو پھلانگتا ہوا آگے بڑھے۔خدا تعالیٰ نے بھی اس سے حیاء کا سلوک کیا اور اسے بخش دیا۔( بخاری ) 9 ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گزشتہ نبیوں کے کلام میں سے یہ بھی ہے کہ جب تمہیں حیاء نہیں تو پھر جو چاہو کرو۔( بخاری ) 10 نیز آپ فرماتے تھے کہ حیاء کا نتیجہ لازما خیر و بھلائی ہی ہوتا ہے۔خود آپ کی ذات حیاء کا بہترین نمونہ تھی آپ کنواری لڑکیوں سے بھی بڑھ کر حیادار تھے۔کوئی چیز آپ کو نا پسند ہوتی تو چہرے کے تغیر سے اس کا پتہ چل جاتا تھا۔(مسلم )11 آداب حیاء حضرت بلال بن حارث بیان کرتے تھے کہ رسول کریم جب قضائے حاجت کے لئے تشریف لے جاتے تو بہت دور نکل جاتے تھے۔(ابن ماجہ ) 12 اسی طرح قضائے حاجت کے وقت نبی کریم اپنا تہ بند اس وقت تک اوپر نہیں