اسوہء انسانِ کامل — Page 484
اسوہ انسان کامل 484 رسول اللہ کا غلاموں سے حسن سلوک پھوپھی زاد بہن زینب کی شادی اس آزاد کردہ غلام سے کر کے ثابت کر دیا کہ آپ کے نزدیک عزت کا معیار تقویٰ تھا۔اگر چہ اختلاف مزاج کے باعث یہ شادی کامیاب نہ ہوسکی تو آپ نے حضرت ام ایمن سے زیڈ کی شادی کروائی۔جن سے اسامہ پیدا ہوئے۔(ابن سعد ) 20 رسول اللہ کو حضرت اسامہ سے بھی بہت محبت تھی۔ایک دفعہ گھر میں ایسا ہوا کہ اسامہ کی ناک بہ رہی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسکی ناک صاف کرنے کے لئے آگے بڑھتے ہیں۔حضرت عائشہ دیکھ کر عرض کرتی ہیں۔حضور میں جو حاضر ہوں آپ رہنے دیں میں اس کی ناک صاف کر دیتی ہوں۔آپ فرماتے نہیں اور پھر خود اسامہ کی ناک صاف کرتے۔اپنے نواسے امام حسین اور غلام زادے اسامہ کو گود میں لے کر دعا کرتے کہ اے اللہ میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر۔( بخاری ) 21 آپ کمال محبت سے فرمایا کرتے اسامہ لڑ کی ہوتی تو میں اسے زیور پہنا تا۔عمدہ عمدہ کپڑے پہناتا۔( ابن ماجہ ) 22 رسول اللہ کے ایک خادم حضرت انس بن مالک تھے انکا بیان ہے کہ میں نے دس سال تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ہے آپ نے کبھی مجھے اُف تک نہیں فرمایا کسی کام کے لئے جو میں نے کیا آپ نے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ کیوں کیا اور نہ کسی کام کے لئے جو میں نے نہ کیا ہو اور چھوڑ دیا ہو آپ نے یہ فرمایا کہ کیوں نہیں کیا۔( بخاری ) 23 حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ میں نے دس سال رسول کریم کی خدمت کی ہے مجھے کبھی پتہ نہیں چلا کہ آپ کو کونسی بات پسند ہے اور کونسی نا پسند۔آپ تو ہر حال میں راضی برضائے الہی رہتے تھے۔اگر آپ کی بیویوں سے کوئی مجھے یہ فرما نہیں کہ اگر تم یوں کر لیتے تو اچھا ہوتا آپ فرماتے اسے کچھ نہ کہو کیونکہ ہوتا وہی ہے جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔(بیشمی )24 رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں میں سے خوبصورت اور بہترین اخلاق رکھتے تھے۔ظاہری و باطنی ہر لحاظ سے لطافت آپ کے اندرا ایسے کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ریشم بھی آپ کی ہتھیلی کے مقابلہ میں کیا نرم ہو گا۔آپ خوشبو استعمال فرماتے تھے۔آپ کے پسینہ سے اٹھنے والی خوشبو کا مشک بھی کیا مقابلہ کریگا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے غلاموں کے ساتھ کھانے پینے میں شریک ہوکر ان کی حوصلہ افزائی فرماتے تھے آپ کے خادم حضرت انس کہتے ہیں کہ میری ماں ام سلیم نے ایک ٹوکری میں کھجور میں دے کر رسول اللہ کی خدمت میں بھیجا۔حضور گھر پر نہیں تھے۔بلکہ اپنے ایک آزاد کردہ غلام کی دعوت پر اس کے ہاں تشریف لے گئے تھے جس نے حضور کا کھانا کیا ہوا تھا۔میں وہاں پہنچا تو حضور کھانا تناول فرما رہے تھے آپ نے مجھے بھی کھانے میں شریک ہونے کے لیے فرمایا۔کھانے میں گوشت اور کدو کا ثرید تھا۔میں نے دیکھا کہ حضور کو کدو بہت پسند ہیں چنانچہ میں کدو کے ٹکڑے اکٹھے کر کے حضور کے قریب کرنے لگا ( اور آپ تناول فرماتے رہے ) ہم کھانا کھا چکے تو حضور واپس اپنے گھر تشریف لائے۔میں نے کھجور کی ٹوکری حضور کے سامنے رکھ دی۔آپ اس میں سے کھاتے بھی جاتے اور تقسیم بھی فرماتے جاتے