اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 397 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 397

اسوہ انسان کامل 397 غزوات النبی میں خلق عظیم روشن مینار ہے جس کی کل عالم میں کوئی نظیر نہیں ، سوائے چند مجرموں کے جو اپنے جرائم کی بنا پر واجب القتل تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دربار سے عام معافی کا اعلان ہوا۔دراصل یہی آپ کی وہ اخلاقی فتح تھی۔جس نے آپ کے اہل وطن کے دل جیت لئے۔ان دس واجب القتل مجرموں میں سے بھی صرف تین اپنے جرائم پر اصرار کرنے اور معافی نہ مانگنے کی وجہ سے مارے گئے۔ایسے مجرموں کو قرار واقعی سزا دینا عدل وانصاف کا تقاضا بھی تھا اور معاشرہ پر احسان بھی کیونکہ وہ اپنے جرم پر مصر تھے ورنہ اس دربار سے تو عفو کا کوئی بھی سوالی خالی ہاتھ لوٹا نہ معافی سے محروم ہوا۔پہلا مجرم ان بد بخت مجرموں میں سے ایک عبداللہ بن ہلال بن خطل تھا۔جس کا اصل نام عبدالعڑ ی تھا۔مسلمان ہوا تو رسول اللہ اللہ نے اس کا نام عبداللہ رکھا اور اسے زکوۃ وصول کرنے پر مامور فرمایا اور ایک انصاری کو بطور خدمت گار ساتھ روانہ کیا۔ایک منزل پر قیام کے دوران محض بر وقت کھانا تیار نہ کرنے پر اس نے انصاری نوجوان کو قتل کر ڈالا۔اس قتل ناحق کے باعث بطور قصاص وہ سزائے موت کا مستحق تو قرار پاہی چکا تھا، لیکن اس پر مستزاد یہ کہ اس قتل کے بعد مرتد ہوکر مشرکین مکہ سے جاملا اور اسلام اور بانی اسلام کے خلاف ایک محاذ کھول لیا۔یہ خود شاعر تھا۔نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف گندے اور مخش اشعار کہتا اور مجالس میں ترنم سے پڑھواتا تھا۔فتح مکہ کے موقع پر بھی ابن خطل معافی کا خواستگار ہونے کی بجائے مسلح اور زرہ بند ہوکر گھوڑے پر سوار ہوا اور قسمیں کھا کھا کر یہ اعلان کرتا پھرا کہ محمد کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔پھر جب حضور مکہ میں داخل ہو گئے تو بھی بجائے آپ کے دربار عفو میں حاضر ہونے کے خانہ کعبہ کے پردوں سے جاکر لپٹ گیا تا اس حیلہ سے جان بچا لے۔چنانچہ حسب فیصلہ یہ قتل ہو کر کیفر کردار کو پہنچا۔اے کاش ! ابن خطل بھی رسول اللہ کے دربار رسالت سے عفو کا طالب ہوتا تو اپنے جیسے دیگر مجرموں کی طرح وہ بھی آپ کی رحمت وعفو سے حصہ پاتا۔(حلبیہ ( 83 ابن خطل مذکور کی دو مغنیہ ( گانے والی عورتیں ) بھی تھیں۔جو اعلانیہ اس کی کہی ہوئی ہجو گایا کرتیں اور اشاعت فاحشہ کی مرتکب ہوتیں۔اس لئے اس کے ساتھ اس کی دونوں مغنیات بھی سزائے موت کی سزا وار قرار پائیں۔ان میں سے بھی ایک جس کا نام فرستنہ یا قریبہ تھا تا ئب ہو کر بھیس بدل کر آئی اور رسول اللہ کی بیعت کر کے اسلام قبول کر لیا۔دوسری لونڈی کے بارہ میں مستند تاریخی روایات سے کوئی واضح ثبوت نہیں ملتا کہ اس کا کیا نام تھا اور کیا انجام ہوا۔آیا وہ اپنے مالک کی طرح فسق و فجور پر قائم رہنے اور تو بہ نہ کرنے کے باعث اپنے منطقی انجام کو پہنچی یا کہیں بھاگ کر رو پوش ہوگئی۔( الحلبیہ ، بلاذری) 84 دوسرا مجرم دوسرا مجرم کو سرث بن نقیذ بن وہب تھا۔جو نبی کریم کا جانی دشمن تھا۔مکہ میں آپ کو سخت ایذائیں دیتا، آپ کے