اسوہء انسانِ کامل — Page 367
367 غزوات النبی میں خلق عظیم اسوہ انسان کامل بہت سی قوموں کو یعنی جنتیوں اور چر جاسیوں اور اُمور یوں اور کنعانیوں اور فرزیوں اور جو یوں اور سیوسیوں کو جو ساتوں قو میں تجھ سے بڑی اور زور آور ہیں نکال دے اور جب خداوند تیرا خدا ان کو تیرے آگے شکست دلائے اور تو ان کو مارلے تو تو ان کو بالکل نابود کر ڈالنا، تو ان سے کوئی عہد نہ باندھنا، اور نہ ان پر رحم کرنا، تو ان سے بیاہ شادی بھی نہ کرنا، نہ ان کے بیٹوں کو اپنی بیٹیاں دینا نہ اپنے بیٹوں کے لئے ان کی بیٹیاں لینا، کیوں کہ وہ تیرے بیٹوں کو میری پیروی سے برگشتہ کر دیں گے تا کہ وہ اور معبودوں کی عبادت کریں یوں خداوند کا غضب تم پر بھڑ کے گا اور وہ تجھ کو جلد ہلاک کر دے گا۔بلکہ تم ان سے یہ سلوک کرنا کہ ان کے مذبحوں کو ڈھا دینا، ان کے ستونوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دینا، اور ان کی سیرتوں کو کاٹ ڈالنا اور ان کی تراشی ہوئی مورتیں آگ میں جلا دینا۔‘ (استثناء باب 7 آیت 1 تا 6) قرآن شریف نبی کریم کے زمانہ کی مستند ترین مسلمہ دستاویز ہے، اس میں اسلامی جہاد کے آداب بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا ط إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ (البقرہ : 191) یعنی اللہ کی راہ میں ان سے لڑو جو تم سے جنگ کرتے ہیں۔اسی طرح فرمایا کہ وَهُمْ بَدَءُوكُمْ أَوَّل مَرَّةٍ (التوبہ: 13 ) کہ جنگ میں پہل کفار مکہ کی طرف سے ہوئی تھی۔اس کے باوجود مسلمانوں کو یہی حکم تھا کہ اگر دشمن اب بھی صلح کی خواہش کرے تو مصالحت کرلو۔فرمایا وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (الانفال:62) کہ اگر وہ (دشمن ) صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی صلح کے لئے جھک جاؤ۔نبی کریم ان اصولی اسلامی احکام کی روشنی میں ہمیشہ اپنے ساتھیوں کو یہ تعلیم دیتے رہے کہ دشمن سے مقابلہ کی خواہش کبھی نہ کریں۔خدا سے ہمیشہ عافیت اور امن و امان کے طالب ہوں۔ہاں جب دشمن حملہ آور ہو اور اس سے مقابلہ ہو جائے تو پھر اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرو۔اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔( بخاری )2 حضرت بریدہ سے روایت ہے کہ رسول کریم جب کسی دستہ پر کوئی امیر مقررفرماتے یا کوئی مہم بھجواتے تو اسے سب سے اہم ہدایت یہ فرماتے کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرنا اور اپنے ساتھی مسلمانوں کے ساتھ بہتر سلوک کرنا۔پھر فرماتے خدا کا نام لے کر اللہ کی راہ میں نکلا کرو۔ان سے جنگ کرو جو اللہ کے منکر ہیں۔جہاد کرو اور کسی قسم کی خیانت کے مرتکب نہ ہوتا۔بدعہدی نہ کرنا۔دشمن کی نعشوں کا مثلہ نہ کرنا یعنی کان ناک وغیرہ اعضاء کاٹ کر بے حرمتی نہ کرنا)۔بچوں کو قتل نہ کرنا۔وہ مشرک جو فتح مکہ کے بعد بھی مسلمانوں کے ساتھ نبرد آزما اور حالت جنگ میں تھے ان کے متعلق فرمایا ” جب مشرکوں میں سے اپنے کسی دشمن سے تمہارا مقابلہ ہو تو ان کو تین باتوں میں سے کسی ایک کی طرف بلاؤ۔ان میں سے کسی ایک بات کو بھی وہ قبول کر لیں تو ان پر حملے سے رُک جاؤ اول انہیں اسلام کی دعوت دو۔اگر وہ قبول کر لیں تو ان پر حملہ کرنے سے گریز کرو۔پھر ان کو اپنے وطن سے مسلمانوں کے دارالہجرت کی دعوت دیں اگر وہ اسے قبول کریں تو