اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 358 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 358

اسوہ انسان کامل 358 نبی کریم کا مصائب پر صبر ایک شخص کو اس کے دین کے مطابق آزمایا جاتا ہے۔اگر اس کے دین میں مضبوطی ہو تو اس پر مصیبت بھی سخت آتی ہے۔اور اگر دین میں کچھ کمزوری ہو تو اس کے مطابق وہ آزمایا جاتا ہے۔اور جب ایک انسان مصیبت پر صبر کے ساتھ اس سے سرخرو ہو کر نکلتا ہے تو اس کے گناہ اس طرح بخشے جاتے ہیں کہ کوئی بدی بھی باقی نہیں رہتی۔( ترندی)5 جسمانی تکالیف پر صبر نبی کریم عملی زندگی میں چھوٹی بڑی تکالیف پر غیر معمولی صبر کا مظاہرہ فرماتے تھے۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ میں رسول کریم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ سخت بخار میں مبتلا تھے۔میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ کو تو سخت بخار کی تکلیف ہے آپ نے فرمایا ہاں مجھے بہت شدید تکلیف ہے ایک عام آدمی کو بخار میں جتنی تکلیف ہوتی ہے اس سے دو گنا تکلیف ہے۔( مگر حضور نہایت صبر سے اسے برداشت کر رہے تھے ) میں نے عرض کیا آپ کو اجر بھی تو دگنا ملے گا۔رسول اللہ نے فرمایا کسی مسلمان کو بھی کوئی تکلیف پہنچے حتی کہ کانٹا بھی چبھے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ اس طرح دور کر دیتا ہے جیسے درخت کے پتے گر جاتے ہیں۔( بخاری ) 6 حضرت جندب بیان کرتے ہیں کہ ایک جنگ میں رسول کریم کی انگلی زخمی ہوگئی آپ اسے مخاطب کر کے فرماتے ہیں۔هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيبٌ وفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيت اے انگلی ! تو صرف ایک انگلی ہی تو ہے جو زخمی ہوئی ہے تو کیا ہوا کہ خدا کی راہ میں یہ تکلیف تجھے پہنچی ہے۔( بخاری )7 اللہ تعالیٰ اپنے پیارے بندوں کے اخلاص و وفا کو آزمانے کیلئے کبھی خوف ، بھوک مصیبت سے اور کبھی جان ومال کی قربانی لے کر ان کا امتحان کرتا ہے۔جو لوگ اس امتحان میں پورے اتریں اور کسی جزع فزع اور بے صبری کے اظہار کی بجائے کمال صبر و وفا سے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ( یعنی ہم بھی اللہ کی ہی امانت ہیں اور ہم نے اس کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔کہ کر اپنے مالک کی مرضی پر راضی ہو جائیں تو اللہ ان پر راضی ہوتا ہے اور اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل فرماتا اور ان کو ہدایت یافتہ قرار دیتا ہے۔(سورۃ البقرۃ:156 تا158) نبی کریم سے ایک دفعہ پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ سب سے زیادہ ابتلاء اور مصائب کن لوگوں پر آتے ہیں؟ آپ نے فرمایا نبیوں پر۔پھر ان پر جو اُن سے قریب ہوں پھر ان سے قریب تر لوگوں پر۔(احمد) 8 نبی کریم طبعاً بہت صابر و شاکر طبیعت رکھتے تھے۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ کی آخری بیماری میں آپ کی تکلیف سے زیادہ کسی کی تکلیف نہیں دیکھی۔( بخاری ) حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ میں رسول کریم کی خدمت میں آپ کی آخری بیماری میں حاضر ہوا۔آپ سخت تکلیف میں تھے۔میں نے آپ کو ہاتھ لگا کر عرض کیا کہ آپ تو بخار سے تپ رہے ہیں۔آپ نے