اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 291 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 291

اسوہ انسان کامل 291 آنحضرت معه بحیثیت معلم و مربی اعظم دلی محبت کے ساتھ تربیت نبی کریم کا تربیت کرنے کا بڑا اگر یہ تھا کہ آپ نے دنیا کے دل محبت اور احسان کے ساتھ جیتے۔حضرت طلحہ بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں ایک دفعہ اہل نجد میں سے ایک شخص آیا جس کے سر کے بال پراگندہ تھے۔اس نے دور سے ہی بولنا شروع کر دیا۔اس کی آواز کی گونج سنائی دے رہی تھی مگر گفتگو سمجھ نہیں آرہی تھی یہاں تک کہ وہ قریب آیا اور اسلام کے بارہ میں آنحضور سے سوال کرنے لگا۔حضور نے کمال تحمل اور نرمی سے جواب دیئے اور اسے بتایا کہ ایک دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں۔اس نے پوچھا کیا اسکے علاوہ بھی مجھ پر کچھ فرض ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں سوائے اسکے کہ تو از خود بطور نفل کچھ عبادت کرنا چاہے۔پھر حضور نے اُسکے دوسرے سوال پر بتایا کہ رمضان کے روزے اس پر فرض ہیں تو وہ پوچھنے لگا کیا میرے ذمہ اسکے علاوہ بھی کچھ روزے ہیں۔آپ نے فرمایا نہیں سوائے نفلی روزوں کے جو تم خودخوشی سے رکھنا چا ہو۔پھر اس کے سوال پر حضور نے زکوۃ کی فرضیت بیان کی تو اس نے وہی سوال دو ہرایا کہ کیا فرض زکوۃ کے علاوہ بھی میرے ذمہ کچھ ہے۔آپ نے فرمایا نہیں۔سوائے اس کے کہ تم از خود خوشی سے کوئی صدقہ دینا چا ہو۔اس پر وہ شخص چلا گیا اور یہ کہتا جارہا تھا خدا کی قسم! میں نہ تو اس سے کچھ زیادہ کروں گا اور نہ کم۔رسول اللہ اللہ نے فرمایا ” اگر اس نے سچ کہا ہے تو یہ کامیاب ہو گیا۔( بخاری )19 معاویہ بن حکم بیان کرتے ہیں ایک دفعہ مجھے نبی کریم کے ساتھ نماز ادا کرنے کا موقع ملا۔اس دوران ایک آدمی کو چھینک آ گئی۔میں نے نماز میں ہی کہہ دیا اللہ آپ پر رحم کرے۔لوگ سنکھیوں سے مجھے دیکھنے اور تعجب سے اپنی رانوں پر ہاتھ مارنے لگے۔میں نے محسوس کیا کہ مجھے خاموش کرانے کے لئے ایسا کر رہے ہیں۔میں خاموش ہو گیا، نماز کے بعد نبی کریم ﷺ نے مجھے بلایا۔میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں نے آپ سے بہتر تعلیم دینے والا کوئی انسان نہیں دیکھا۔آپ نے مجھے مارا نہ برا بھلا کہا صرف اتنا فرمایا۔نماز کے دوران کوئی اور بات کرنا جائز نہیں ہے۔نماز تو ذکر الہی اللہ تعالیٰ کی تعریف اور بڑائی کے اظہار پر مشتمل ہوتی ہے۔(مسلم) 20 ایک دفعہ ایک اعرابی آیا۔اس نے اپنی سواری کا اونٹ صحن مسجد کے ایک حصے میں بٹھایا۔پھر وہیں پیشاب کرنے بیٹھ گیا۔صحابہ نے اُسے ڈانٹا ٹھہر ٹھہر و“۔نبی کریم نے صحابہ کو منع کرتے ہوئے فرمایا ”اس بے چارے کا پیشاب تو نہ روکو، اسے اس کے حال پر چھوڑ دو۔جب وہ شخص پیشاب کر کے فارغ ہوا تو رسول کریم نے اسے بلا کر سمجھایا کہ مساجد میں پیشاب کرنا اور گندگی ڈالنا مناسب نہیں یہ تو اللہ کے ذکر نماز اور قرآن کی تلاوت کے لئے ہیں۔“ پھر آپ نے ایک شخص کو حکم دیا کہ پیشاب پر پانی بہادے۔نیز صحابہ کونصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ” تم آسانی کیلئے پیدا کئے گئے ہونگی کے لئے نہیں۔( بخاری ) 21 حضرت ابو ہریرہ کا بیان ہے کہ بعد میں وہ بد و رسول اللہ کے اخلاق کریمہ کا ہمیشہ تذکرہ کیا کرتا اور کہتا تھا کہ