اسوہء انسانِ کامل — Page 290
اسوہ انسان کامل 290 آنحضرت معه بحیثیت معلم و مربی اعظم الفاظ میں اس شخص کی خوبی کا ذکر کر کے کہنا چاہئے کہ ”میرے خیال میں فلاں شخص ایسا ہے باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔( بخاری ) 15 حضرت ام المؤمنین حفصہ نے ایک دفعہ اپنے بھائی عبداللہ بن عمرؓ کی ایک خواب نبی کریم کے سامنے بیان کی۔آپ نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا عمدہ نصیحت فرما دی کہ عبداللہ نیک نوجوان ہے۔کیا ہی اچھا ہو اگر وہ رات کو تہجد کی نماز ادا کرنے کی عادت ڈالے۔( بخاری )16 رسول اللہ کی دلی خواہش اور حوصلہ افزائی کے اس ایک جملے نے حضرت عبداللہ بن عمر کی زندگی میں انقلاب پیدا کر دیا اور وہ عابد وزاہد انسان بن گئے۔سچائی میں عمدہ نمونہ تربیت میں سچائی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ایک گناہ گار شخص نے رسول کریم کے ہاتھ پر تو بہ کی بیعت کی اور اپنی کمزوری کا اقرار کرتے ہوئے عرض کیا کہ سارے گناہ ایک ساتھ چھوڑ نے مشکل ہیں کوئی ایک گناہ جو آپ فرما ئیں چھوڑ سکتا ہوں۔آپ نے فرمایا جھوٹ چھوڑ دو۔پھر سچائی کی برکت سے اس سعادت مند کو رفتہ رفتہ سارے گناہوں سے نجات مل جائے گی۔نبی کریم اولاد کے لئے اپنے اصحاب کو بھی عمدہ نمونہ پیش کرنے کیلئے ہدایت فرماتے تھے۔مثلاً یہ کہ خود سچائی پر قائم ہو کر بچوں کو اس کا نمونہ دیا جائے اور تکلف سے یا مذاق میں بھی جھوٹ نہ بولا جائے۔عبداللہ بن عامر بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم ایک دفعہ ہمارے گھر تشریف لائے۔میں اس وقت کمسن بچہ تھا۔میں کھیلنے کے لئے جانے لگا تو میری امی نے کہا عبداللہ ادھر آؤ میں تمہیں چیز دونگی۔رسول اللہ نے فرمایا آپ اسے کچھ دینا چاہتی ہو؟ میری ماں نے کہا ہاں کھجور دونگی۔آپ نے فرمایا اگر واقعی تمہارا یہ ارادہ نہ ہوتا ( اور صرف بچے کو بلانے کی خاطر ایسا کہا ہوتا ) تو تمہیں جھوٹ بولنے کا گناہ ہوتا۔(احمد) 17 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے دینی حالات پر نظر رکھتے تھے۔تربیت کا یہ بھی ایک انداز تھا کہ آپ تصحابہ میں نیکیوں کا مقابلہ کروا کے ان کی روحانی ترقی کے سامان فرماتے تھے۔انہیں مناسب رنگ میں توجہ دلاتے رہتے تھے۔حضرت ثابت بن قیس کو آپ نے کچھ روز نماز سے غیر حاضر پاکر ان کے بارے میں پتہ کروایا۔انہیں کہلا بھیجا کہ وہ سورۃ حجرات کی تیسری آیت کے نزول کے بعد سے نادم و پریشان ہو کر گھر بیٹھ رہے ہیں۔اس آیت میں نبی کی آواز سے اونچی آواز کرنے والوں کے اعمال ضائع ہونے کا ذکر تھا اور ثابت کی آواز بلند تھی۔نبی کریم نے پیغام بھجوایا کہ ثابت کو جا کر بشارت دو کہ تمہارے جیسا آدمی اہل نار میں سے نہیں ہو سکتا تم تو اہل جنت میں سے ہو۔( بخاری ) 18