اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 247 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 247

اسوہ انسان کامل 247 رسول اللہ بحیثیت داعی الی اللہ تک کہ ہم دونوں قبیلوں کے قافلے باہم مشابہ ہو گئے یعنی ہم ان کی برابر کی ٹکر ہو گئے تو انہوں نے دعوی کر دیا کہ ہم میں سے نبی ہے۔خدا کی قسم! میں یہ ہرگز نہ ہونے دونگا۔(بیہقی ) 11 قریش کی متحدہ مخالفت کا آغاز رسول کریم نے جب کھل کر تبلیغ شروع کی اور بت پرستی سے منع کیا اور آپ کے ساتھ ایک جماعت اکٹھی ہونی شروع ہوگئی تو قریش کو اپنی سرداری خطرے میں نظر آنے لگی۔وہ مشورے کرنے لگے کہ کس طرح اس نئے سلسلہ کوروکا جائے۔ایک دن ابو جہل نے سرداران قریش کی مجلس میں کہا محمد کا معاملہ کچھ بڑھتاہی جارہا ہے۔تم لوگ کسی ایسے شخص کو تلاش کرو جو جادو، کہانت اور شعر کا علم رکھتا ہو اور وہ ہماری طرف سے جا کر اس سے بات کر کے ہمیں اس کا رد عمل بتائے۔اس پر ایک سردار نقتبہ کہنے لگا کہ میں جادو، کہانت اور شعر سب کے بارہ میں کچھ علم رکھتا ہوں اگر اس سے متعلق کوئی بات ہے تو میں کافی ہوں۔چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے محمد ! تم بہتر ہویا ہاشم ، عبد المطلب اور عبداللہ ؟ ( جو تمہارے آباء واجداد اور بزرگ تھے )۔رسول اللہ خاموش رہے۔اس نے پھر کہا آپ ہمارے معبودوں کو کیوں برا کہتے اور ہمارے آباؤ اجداد کو کیوں گمراہ قرار دیتے ہیں؟ اگر آپ سرداری کے خواہاں ہیں تو ہم آپ کو سر دار مان لیتے ہیں۔اگر کہیں شادی کا ارادہ ہے تو قریش کے جس گھرانہ سے کہو دس عورتیں بیاہ کر دینے کو تیار ہیں۔اگر مال چاہئے تو اتنا مال جمع کر کے دیتے ہیں کہ آپ اور آپ کی اولاد بھی ہمیشہ کے لئے محتاجی سے محفوظ ہو جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو کر اس کی باتیں سنتے رہے۔جب وہ سب کہہ چکا تو آپ نے سورہ حم فصّلت کی تلاوت فرمائی جس کے آغاز میں ذکر ہے کہ یہ رحمن و رحیم خدا کی طرف سے اترنے والا کلام ہے۔جب آپ اس آیت پر پہنچے انذَرُ تُكُمْ صَاعِقَةٌ مِثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ ( حم السجدہ:14) کہ میں تمہیں اس عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا عذاب عاد و ثمود کی قوم پر آیا تھا۔عتبہ نے آپ کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور کہنے لگا رحمان خدا کا واسطہ ہے آپ مجھے اور نہ ڈرائیں۔عقبہ اس کلام کی فصاحت و بلاغت سے ایسا مرعوب اور خوفزدہ ہوا کہ وہ واپس سرداروں کے پاس نہیں گیا۔دیر ہونے پر ابو جہل کہنے لگا کہ لگتا ہے کہ عتبہ محمد (ﷺ) کی طرف مائل ہو گیا ہے۔بعد میں جب ابو جہل نے اس سے اسبارہ میں پوچھا تو عتبہ نے اسے سارا واقعہ سنا کر کہا تمہیں پتہ ہے محمد جب کوئی بات کہہ دے تو وہ کبھی جھوٹی نہیں ہوتی۔میں ڈرتا ہوں کہ وہ عذاب جس سے وہ ڈراتا ہے تم پر آہی نہ جائے۔(ابن ہشام )12 مخالفت کے ذریعہ تبلیغ الہی سلسلوں کی مخالفت کی حیثیت بھی ایسی ہے جیسی کھیتی کے لئے کھاو۔مشرکین مکہ کی مخالفت کے ذریعہ بھی ملکہ کے گردونواح میں اسلام کی تبلیغ پہنچنا شروع ہوئی۔اس سلسلہ کے واقعات بہت اہم اور دلچسپ ہیں۔