اسوہء انسانِ کامل — Page 232
232 آنحضرت کی صحابہ سے محبت اور صحابہ کا عشق رسول اسوہ انسان کامل اُسے پتہ چلا کہ یہ مغیرہ ہیں تو وہ اُن سے مخاطب ہو کر کہنے لگا کہ تم جانتے ہو جاہلیت میں میں تمہارا معاون و مددگار رہا ہوں، اس کا یہ بدلہ تم مجھے دے رہے ہو۔واقعہ یہ ہے کہ صحابہ رسول کو اپنے آقا و مولیٰ سب دوستوں اور عزیزوں سے بڑھ کر پیارے تھے۔میدان حدیبیہ میں ہی کفار کے سفیر عروہ نے صحابہ کے عشق کا ایک اور نظارہ بھی دیکھا کہ وہ حضور کے وضو کا مستعمل پانی حتی کہ آپ کا تھوک بھی نیچے گرنے نہ دیتے بلکہ بطور تبرک اپنے ہاتھوں میں لیتے تھے۔وہ آپ کے حکم کی والہانہ تعمیل کرتے تھے۔اس نے جا کر قریش کے سامنے اس کا یوں اظہار کیا کہ میں نے بڑے بڑے بادشاہوں کے دربار بھی دیکھے ہیں اور قیصر و کسری اور نجاشی کے محلات بھی۔خدا کی قسم! میں نے کسی بادشاہ کے ساتھیوں کو اس کی وہ تعظیم کرتے نہیں دیکھا جو محمد کے ساتھی اس کی کرتے ہیں۔خدا کی قسم ! رسول اللہ کوئی تھوک بھی نہیں پھینکتے مگر ان کا کوئی ساتھی اُسے اپنے ہاتھ میں لے کر اپنے جسم پر مل لیتا ہے اور جب وہ انہیں کوئی بات کہتے ہیں تو وہ لبیک کہتے اور فورا اس پر عمل کرتے ہیں۔جب محمد وضو کرتے ہیں تو اس کے پانی کا ایک قطرہ بھی وہ نیچے گرنے نہیں دیتے اور لگتا ہے کہ اسے ہاتھوں ہاتھ لینے کیلئے جیسے وہ لڑ پڑیں گے۔پھر جب وہ بات کرتا ہے تو وہ خاموشی سے سنتے ہیں۔اس کی تعظیم کی خاطر اس کی طرف نظر اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتے اور اس کے سامنے نیچی آواز میں بات کرتے ہیں۔الغرض صحابہ کے عشق و محبت کا یہ وہ نظارہ تھا جس نے مشرک سردار عروہ کو بھی حیران و ششدر کر دیا۔( بخاری ) 31 رسول کریم کے ایک اور عاشق صادق حضرت ابوایوب انصاری تھے۔ہجرت مدینہ کے معابعد رسول اللہ آپ کے مکان میں آکر رہائش پذیر ہوئے تھے۔رسول اللہ اللہ سے ابو ایوب کی محبت کا عجب عالم تھا۔چھ یا سات ماہ کا عرصہ جو آنحضرت سے ان کے ہاں فروکش رہے، انہوں نے مہمانی کا حق خوب ادا کیا۔سارا عرصہ رسول اللہ ﷺ کا کھانا با قاعدگی سے تیار کر کے بھجواتے رہے۔جب کھانا بیچ کر آتا تو اس پر رسول خدا کی انگلیوں کے نشانات دیکھتے اور وہاں سے کھانا تناول کرتے۔ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے کھانا تناول نہ فرمایا۔ابوایوب جو رسول خدا کا بچا ہوا تبرک کھانے کے عادی تھے دوبارہ حاضر ہوئے۔عرض کی حضور نے آج کھانا تناول نہیں فرمایا۔حضور نے فرمایا آج کھانے میں پیاز لہسن تھا اور میں اسے پسند نہیں کرتا۔ابو ایوب نے عرض کی حضور" جسے آپ نا پسند فرماتے ہیں آئندہ سے میں بھی اسے ناپسند کرتا ہوں۔(ابن حجر (32) ( معلوم ہوتا ہے کچا پیاز لہسن ہو گا جسے پسند نہیں فرمایا )۔والدین سے بڑھ کر محبت انہیں عشاق رسول میں سے زید بن حارثہؓ بھی تھے جنہیں انکے قبیلہ پر حملہ کے دوران پکڑ کر بیچ دیا گیا تھا۔یہ حضرت خدیجہ کے غلام تھے۔انہوں نے رسول اللہ کی خدمت میں پیش کر دیا تو آپ نے آزاد کر کے زیڈ کو منہ بولا بیٹا بنالیا۔زیڈرسول اللہ کی شفقتوں کے مورد بنے اور حب رسول ، یعنی رسول اللہ کے پیارے کہلائے۔زیڈ بھی رسول اللہ کی محبت کے اسیر ہو کر رہ گئے۔