اسوہء انسانِ کامل — Page 231
231 آنحضرت کی صحابہ سے محبت اور صحابہ کا عشق رسول اسوہ انسان کامل اور ان پر بھی سلامتی ہو۔پھر آپ نے خطبہ ارشاد فرمایا اور صحابہ کو اطلاع دی کہ تمہارے بھائیوں کا مشرکوں سے مقابلہ ہوا اور وہ سب شہید ہو گئے۔بوقت شہادت انہوں نے یہ دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان کا سلام اور راضی برضائے الہی ہونے کا پیغام ہم تک پہنچا دے۔رسول اللہ کو اپنے ان ستر اصحاب کی شہادت کا بہت غم تھا۔حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ حضور کو کبھی کسی کی موت کا اتنا صدمہ نہیں ہوا جتنا صدمہ بئر معونہ میں شہید ہونے والے ستر اصحاب کا ہوا۔آپ تمیں دن تک نماز کی آخری رکعت میں ہاتھ اُٹھا کر مد دو نصرت کی دعائیں پڑھتے رہے۔( الحلبیہ (28 ایک محبوب کے دیوانے صحابہ رسول کو اپنے آقا کی حفاظت کی جو فکر ہوتی تھی اور رسول اللہ صحابہ کا جس طرح خیال رکھتے تھے اس کا کچھ اندازہ اس واقعہ سے ہوتا ہے۔حضرت ابو موسیٰ اشعری بیان کرتے ہیں کہ ایک غزوہ میں ہم رسول اللہ کے ساتھ شریک سفر تھے رات کو ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا۔رات کے کسی حصے میں مجھے رسول اللہ کا خیال آیا اور میں آپ کا پتہ کرنے اس جگہ گیا جہاں آپ نے ڈیرہ لگایا تھا۔وہاں موجود نہ پا کر میں ادھر ادھر آپ کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ کا ایک اور صحابی بھی میری طرح دیوانہ وار آپ کو ڈھونڈتا پھرتا ہے۔ہم اسی حال میں تھے کہ نبی کریم کو اپنی طرف آتے دیکھا۔ہم نے کہا اے اللہ کے رسول ! آپ دشمن کی سرزمین اور جنگ کے علاقہ میں ہیں۔ہم آپ کی ذات کے بارہ میں خطرہ محسوس کرتے ہیں۔خدا را آپ کو جب کوئی حاجت ہو تو آپ اپنے بعض صحابہ کوحکم فرمائیں تا کہ وہ آپ کے ساتھ جائیں۔رسول کریم نے فرمایا کہ دراصل میرے رب کی طرف سے ایک فرشتہ آیا۔اس نے مجھے اختیار دیا کہ میری امت کا آدھا حصہ جنت میں داخل کرے یا مجھے شفاعت کا حق چاہئے۔میں نے شفاعت کا حق مانگا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ میری امت کے لئے زیادہ وسیع مغفرت کا موجب ہے۔پھر مجھے دو تہائی امت کو جنت میں داخل کرنے اور شفاعت کے درمیان اختیار دیا گیا، پھر بھی میں نے شفاعت کو اختیار کیا کیونکہ میں جانتا تھا کہ شفاعت میں امت کے لئے زیادہ بخشش کی گنجائش ہے۔ان دونوں صحابہ نے آپ سے دعا کی درخواست کی کہ ان کے حق میں بھی آپ کی شفاعت قبول ہو۔رسول اللہ نے دعا کی۔پھر ان دونوں نے دیگر صحابہ کو جا کر بتایا تو وہ بھی اہل شفاعت میں سے ہونے کی دعا کروانے آنے لگے۔رسول اللہ نے فرمایا میری شفاعت ہر کلمہ گو کیلئے ہوگی۔( احمد ) 29 غزوہ حدیبیہ کے موقع پر عروہ بن مسعود (سردار طائف) سفیر قریش بن کر رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ایک صحابی حضرت مغیرہ بن شعبه بغرض حفاظت تلوار لئے رسول اللہ کے پاس کھڑے تھے۔عروہ عرب دستور کے مطابق بات کرتے ہوئے از راہ منت اپنا ہاتھ نبی کریم کی داڑھی کی طرف بڑھاتا تھا۔عاشقِ رسول تمغیرہ کو یہ بھی گوارا نہ تھا کہ ایک مشرک کا ہاتھ رسول اللہ کی ریش مبارک کو چھوئے۔وہ اپنی تلوار کی نوک سے سفیر قریش کا ہاتھ پرے ہٹا دیتے اور کہتے "رسول اللہ کی داڑھی سے اپنا ہاتھ پرے ہٹائو ( بخاری (30) عروہ نے تعجب سے پوچھا کہ یہ کون نو جوان ہے۔جب