اسوہء انسانِ کامل — Page 224
اسوہ انسان کامل 224 آنحضرت کی صحابہ سے محبت اور صحابہ کا عشق رسول حضرت ابوبکر سے محبت اور اُن کا عشق یوں تو نبی کریم ﷺ کو اپنے تمام اصحاب ہی بہت پیارے تھے مگر سب سے قریبی اور قدیمی با وفا دوست حضرت ابوبکر کا اور ہی مقام تھا جنہوں نے زندگی کے ہر موڑ پر وفا کر دکھائی۔ایک دفعہ حضرت عائشہ نے رسول خدا سے گھریلو بے تکلف گفتگو کے دوران پوچھا کہ آپ کو اپنے اصحاب میں سے سب سے پیارے کون ہیں؟ آپ نے فرمایا ابو بکر، انہوں نے پوچھا پھر کون؟ فرمایا عمر، حضرت عائشہ نے پوچھا پھر کون؟ فرمایا ابو عبیدہ بن الجراح۔( ابن حجر ) 3 حضرت ابو بکر کو بھی عشق کی حد تک اپنے آقا سے پیار تھا۔اُن کے ابتدائے اسلام کا واقعہ ہے، ابھی مسلمان چالیس افراد سے بھی کم تھے کہ انہوں نے آنحضرت سے بڑے اصرار کے ساتھ خانہ کعبہ میں اعلانیہ عبادت کرنے کی درخواست کی اور مجبور کر کے خانہ کعبہ لے گئے۔کفار نے خانہ کعبہ میں عبادت کرتے دیکھ کر حضرت ابوبکر کو خوب پیٹا یہاں تک کہ آپ کو اٹھا کر گھر پہنچایا گیا۔جب ذرا آرام آیا تو پہلا سوال یہ پوچھا میرے آقا کا کیا حال ہے؟ کیا رسول اللہ ﷺ کو کوئی تکلیف تو نہیں پہنچی؟ (الحلبیہ (4 اس کے بعد بھی ہمیشہ ہی حضرت ابوبکر آنحضرت ﷺ کی حفاظت کے لئے آپ کے آگے پیچھے کمر بستہ رہے اور ہمیشہ آنحضرت ﷺ سے اپنی جان سے بھی بڑھ کر پیار کیا۔اہل مکہ کے مظالم دیکھ کر حضرت ابو بکر نے آنحضرت عمال سے مدینہ ہجرت کی اجازت طلب کی تو حضور نے فرمایا ” ابوبکر انتظار کرو شاید اللہ تمہارا کوئی اور ساتھی پیدا کر دے۔“ یہ بھی دلی پیار کا ایک عجیب اظہار تھا۔چنانچہ چند دنوں کے بعد جب کفار مکہ نے دارالندوہ میں آنحضرت کے قتل کا مشورہ کیا تو آپ کو ہجرت کی اجازت ہوئی۔آپ سب سے پہلے ابو بکر کے گھر تشریف لے گئے اور فرمایا کہ ہجرت کی اجازت مل گئی ہے۔حضرت ابو بکر پہلے ہی تیار تھے فوراً بولے۔الصُّحْبَةُ يَا رَسُولَ اللہ کہ اے اللہ کے رسول مجھے بھی ہمراہ لے چلیں۔آپ کی بیٹی اسمائہ کہتی ہیں کہ ابو بکڑ نے ہجرت کے لئے کچھ رقم بچا کر رکھی ہوئی تھی ، وہ ساتھ لے گئے۔باقی پہلے ہی راہ خدا میں خرچ کر چکے تھے۔ہجرت مدینہ کے مبارک سفر میں حضرت ابو بکر صدیق نے جس وفاداری اور جاں نثاری کا نمونہ دکھایا اس کی مثال نہیں ملتی۔اپنی دو اونٹنیاں جو پہلے سے سفر ہجرت کیلئے تیار کر رکھی تھیں ان میں سے ایک اونٹنی آنحضرت کی خدمت میں بلا معاوضہ پیش کر دی مگر نبی کریم نے وہ قیمتاً قبول فرمائی۔حضرت ابوبکرؓ نے پانچ ہزار درہم بھی بطور زادِ راہ ساتھ لئے۔پھر غار ثور میں رسول خدا کی مصاحبت کی توفیق پائی جس کا ذکر قرآن شریف میں ہمیشہ کیلئے محفوظ ہو گیا۔فرمایا ثانی اثْنَيْنِ إِذْهُمَا فِى الْغَارِ اذْيَقُولُ لِصَاحِبِهِ لا تَحْزَنُ إِنَّ اللهَ مَعَنَا ( سورة التوبة : 40) یعنی دو میں سے دوسرا جب وہ دونوں غار میں تھے۔جب وہ اپنے ساتھی سے کہتا تھا کہ غم نہ کرو۔اللہ ہمارے ساتھ ہے۔سفر ہجرت میں تاجدار عرب کا یہ بے کس سپاہی آپ کی حفاظت کی خاطر بھی آگے آتا تو کبھی پیچھے بھی دائیں تو کبھی