اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 208 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 208

اسوہ انسان کامل 208 رسول کریم کی ہمدردی خلق اسے بآواز بلند فرمایا کہ اپنا کپڑا واپس لے لو۔(ابوداؤد )19 رسول اللہ علیہ کے زمانے میں ایک شخص نے پھلوں کے کاروبار میں بہت نقصان اٹھایا۔قرض بہت زیادہ ہو گیا۔نبی کریم نے اُس کے لئے صدقہ کی تحریک فرمائی۔لوگوں نے صدقہ دیا مگر جتنا قرض تھا اتنی رقم اکٹھی نہ ہو سکی۔رسول اللہ ﷺ نے قرض خواہوں کو فرمایا کہ جو ملتا ہے لے لو، باقی چھوڑ دو اور معاف کردو۔( احمد ) 20 حضرت معاویہ بن حکم کی ایک لونڈی تھی جو اُن کی بکریاں چراتی تھی۔ایک دن بھیڑ یا اُس کے ریوڑ پر حملہ کر کے ایک بکری اُٹھا کر لے گیا۔معاویہؓ نے غصے میں آکر اس لونڈی کو ایک تھپڑ رسید کر دیا۔اور پھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اس واقعہ کا ذکر کیا۔حضور پر یہ بات بہت گراں گزری۔معاویہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں اُسے آزاد نہ کردوں؟ آپ نے فرمایا اُسے میرے پاس لے آؤ۔جب وہ آئی تو آپ نے پوچھا اللہ کہاں ہے؟ اُس نے کہا آسمان۔نے اللہ۔رسول یہ مومن عورت میں۔آپ نے فرمایا میں کون ہوں؟ اُس نے کہا آپ اللہ کے رسول ہیں۔رسول اللہ نے فرمایا یہ مومن عورت ہے اسے آزاد کر دو۔(مسلم) 21 حضرت عبد اللہ بن عمر رسول اللہ کی خدمت خلق کے سلسلہ کا ایک دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ کے پاس کہیں سے دس درہم آئے۔اتنے میں کپڑے ایک سوداگر آ گیا ، رسول کریم نے اس سے چار درہم میں ایک قمیص خرید لیا۔اسے پہن کر باہر تشریف لائے۔ایک انصاری نے عرض کیا حضور آپ یہ مجھے عطا کر دیں اللہ آپ کو جنت کے لباس عطا فرمائے۔آپ نے وہ قمیص اسے دیدیا۔پھر آپ ایک دوکاندار کے پاس گئے اور اس سے چار درہم میں ایک اور تخمی خریدا۔اب آپ کے پاس دو درہم بچ رہے تھے۔راستہ میں آپ کو ایک لونڈی ملی جورور ہی تھی۔آپ نے سبب پوچھا تو وہ بولی کہ گھر والوں نے مجھے دو درہم کا آٹا خرید نے بھیجا تھا وہ درہم گم ہو گئے ہیں۔رسول کریم نے فوراً اپنے دو درہم اسکو دے دیئے۔جانے لگے تو وہ پھر روپڑی۔آپ نے پوچھا کہ اب کیوں روتی ہو؟ وہ کہنے لگی مجھے ڈر ہے کہ گھر والے مجھے تاخیر ہو جانے کے سبب ماریں گے۔رسول کریم اس کے ساتھ ہو لئے اور اسکے مالکوں کو جا کر کہا کہ اس لونڈی کو ڈ رتھا کہ تم لوگ اسے مارو گے۔اس کا مالک کہنے لگا یا رسول اللہ! آپ کے قدم رنجہ فرمانے کی وجہ سے میں آج اسے آزاد کرتا ہوں۔رسول کریم نے اُسے نیک انجام کی بشارت دی اور فرمایا اللہ نے ہمارے دس درہموں میں کتنی برکت ڈالی کہ ایک قمیص انصاری کو ملا۔ایک قمیص خدا کے نبی کو عطا ہوا اور ایک غلام بھی اس میں آزاد ہو گیا۔میں اُس خدا کی تعریف کرتا ہوں جس نے اپنی قدرت سے ہمیں یہ سب کچھ عطا فرمایا۔(بیشمی ) 22 ایک غریب شخص نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں تو مارا گیا۔ماہ رمضان میں روزے کی حالت میں بیوی سے ازدواجی تعلق قائم کر بیٹھا ہوں۔آپ نے فرمایا ایک گردن آزاد کر دو۔کہنے لگا ، مجھے اس کی کہاں تو فیق ؟ فرمایا پھر مسلسل دو مہینے کے روزے رکھو۔کہنے لگا مجھے اس کی بھی طاقت نہیں۔آپ نے فرمایا اچھا تو پھر