اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 207 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 207

اسوہ انسان کامل 207 رسول کریم کی ہمدردی خلق دیتا۔( بخاری 13) ایک اور موقع پر فرمایا کہ اگر امت پر گراں خیال نہ کرتا تو انہیں ہر نماز کے ساتھ مسواک کا حکم دیتا۔(مسلم 14 ) آپ فرماتے تھے کہ میں نماز کے دوران بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو نماز مختصر کر دیتا ہوں کہ اس کی ماں کے لئے باعث تکلیف و پریشانی نہ ہو۔( بخاری ) 15 رسول کریم کو امت کے غربا کا اتنا خیال تھا کہ قربانی کی عید پر دوموٹے تازے مینڈھے خریدتے۔ایک اپنی اُمت کے ہر اس فرد کی طرف سے ذبح کرتے جو تو حید اور رسالت کی گواہی دیتا ہے، دوسرا مینڈھا اپنے اہل خاندان کی طرف سے ذبح فرماتے۔( بخاری ) 16 عام انسانوں سے ہمدردی آنحضرت ﷺ کسی مرد یا خدمت خلق کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے۔نادار و بے کس خواہ کسی ملک اور قوم کا ہو اس کی مظلومیت کا حال سن کر آپ بے چین ہو جاتے تھے۔مہاجرین حبشہ جب مدینہ واپس لوٹے تو نبی کریم نے ان سے دریافت فرمایا کہ ملک حبشہ میں تم نے کیا کچھ دیکھا۔وہاں کی کوئی دلچسپ بات تو سناؤ۔ایک نوجوان نے یہ قصہ سنایا کہ ایک دفعہ ہم حبشہ میں بیٹھے تھے۔ایک بڑھیا کا ہمارے پاس سے گزر ہوا۔اس کے سر پر پانی کا ایک مٹکا تھا۔وہ ایک بچے کے پاس سے گزری تو اس نے اسے دھکا دیا اور وہ گھٹنوں کے بل آگری۔مٹکا ٹوٹ گیا۔بڑھیا اُٹھی اور اُس بچے کو کہنے لگی اے دھو کے باز بد بخت! تجھے جلد اپنے کئے کا انجام معلوم ہو جائے گا جب اللہ تعالیٰ اپنی کرسی پر جلوہ افروز ہوگا اور فیصلہ کے دن پہلوں اور پچھلوں سب کو جمع کرے گا۔ہاتھ اور پاؤں جو کچھ کرتے تھے خود گواہی دیں گے۔تب تمہیں میرے اور اپنے معاملے کا صحیح علم ہوگا۔رسول اللہ نے جوشِ ہمدردی سے فرمایا ” اس بڑھیا نے سچ کہا اللہ تعالیٰ اس قوم کو کیسے برکت بخشے اور پاک کرے گا جس کے کمزوروں کو طاقتوروں سے اُن کے حق دلائے نہیں جاتے۔“ ( ابن ماجہ ) 17 کسی بھی سائل یا حاجت مند کے بارہ میں رسول کریم کی اصولی ہدایت تھی کہ میرے تک مستحقین کی سفارش پہنچا دیا کرو تمہیں اس کا اجر ملے گا۔باقی اللہ جو چاہے گا اپنے رسول کی زبان پر اس ضرورتمند کے بارہ میں فیصلہ فرمائے گا۔(بخاری) 18 خدمت خلق کی تحریک رسول کریم ع غرباء کی مدد کے لئے تحرا تیکھے بھی کرتے اور فرماتے مستحق لوگوں کی ضروریات مجھ تک پہنچاتے رہا کرو۔ابوسعید خدری بیان کرتے ہیں کہ ایک غریب آدمی مسجد میں آیا۔رسول اللہ نے صدقہ کی تحریک فرمائی کہ لوگ کچھ کپڑے صدقہ کریں۔لوگوں نے کپڑے پیش کر دیئے۔حضور نے دو چادر میں اس غریب کو دے دیں۔حسب ضرورت آپ نے پھر صدقہ کی تحریک فرمائی تو وہی غریب اٹھا اور دو میں سے ایک چادر صدقہ میں پیش کر دی۔رسول اللہ نے