اسوہء انسانِ کامل — Page 173
اسوہ انسان کامل 173 رسول امین کی امانت و دیانت کوئی چیز ہمارے گھر میں نہ رہ جائے۔( بخاری ) حضرت سائب بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن حضرت عثمان اور زبیر مجھے اپنے ساتھ لے کر آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے اور میری تعریفیں کرنے لگے۔رسول کریم نے انہیں فرمایا ! آپ لوگ بے شک مجھے اس کے بارے میں زیادہ نہ بتاؤ۔یہ جاہلیت کے زمانے میں میرا ساتھی رہا ہے۔سائب کہنے لگے ہاں یا رسول اللہ ! آپ کتنے اچھے ساتھی تھے۔آپ نے فرمایا ہاں اے سائب دیکھنا جاہلیت میں تمہارے اخلاق بہت نیک تھے۔اسلام میں بھی وہ قائم رکھنا۔مثلاً مہمان نوازی ، یتیم کی عزت اور ہمسائے سے نیک سلوک وغیرہ پر خاص توجہ دینا۔دوسری روایت میں ہے کہ سائب آنحضرت کے ساتھ تجارت میں شریک رہے۔فتح مکہ کے دن سائب نے یہ گواہی دی کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ نے کبھی جھگڑا نہیں کیا۔(احمد) 10 غزوہ خیبر کے محاصرہ کے وقت بھوک اور فاقے کے ایام میں مسلمانوں کی امانت کا ایک کڑا امتحان ہوا۔ہوا یوں کہ یہود کے ایک حبشی چرواہے نے اسلام قبول کر لیا اور سوال پیدا ہوا کہ اس کے سپرد یہود کی بکریوں کا کیا کیا جائے۔نبی کریم نے ہر حال میں امانت کی حفاظت کرنے کا فیصلہ فرمایا۔آپ نے اپنے صحابہ کی بھوک اور فاقہ کی قربانی دے دی مگر کیا مجال کہ آپ کی امانت میں کوئی فرق آیا ہو حالانکہ یہ بکریاں دشمن کے طویل محاصرہ میں تو مہینوں کی خوراک بن سکتی تھیں۔مگر آپ نے کس شان استغناء سے فرمایا کہ بکریوں کا منہ قلعے کی طرف کر کے ان کو ہا تک دو۔خدا تعالیٰ ان کو ان کے مالک کے پاس پہنچا دے گا۔نو مسلم غلام نے ایسا ہی کیا اور بکریاں قلعے کے پاس پہنچ گئیں جہاں سے قلعے والوں نے ان کو اندر داخل کر لیا۔سبحان اللہ ! رسول اللہ نے جنگ میں بھی جہاں سب کچھ جائز سمجھا جاتا ہے کس شدت سے امانت کے اصول پر عمل کرتے اور کرواتے تھے۔(ابن ھشام ) 11 مد مقابل دشمن کے مال آج بھی میدان جنگ میں حلال سمجھے جاتے ہیں۔کیا آج کل کے مہذب زمانہ میں کبھی ایسا واقعہ ہوا ہے کہ دوران جنگ دشمن کے جانور اور مال و اسباب ہاتھ آگئے ہوں اور ان کو دشمن فوج کی طرف سے واپس کر دیا گیا ہو۔نہیں نہیں ! آج کی دنیا میں عام حالات میں بھی دشمن کے مال کی حفاظت تو درکنار، اسے لوٹنا جائز سمجھا جاتا ہے۔مگر قربان جائیں دیانتداروں کے اس سردار پر کہ دشمن کا وہ مال جو ایک طرف فاقہ کش اور بھوک کے شکار مسلمانوں کی مہینوں کی غذا بن سکتا تھا، دوسری طرف دشمن اس سے اپنا محاصرہ لمبا کھینچ کر مسلمانوں کو پسپائی پر مجبور کرسکتا تھا۔ان سب باتوں کی کوئی پرواہ نہ کی اور امانت مالکوں کے سپردکرنے کا فیصلہ فرمایا۔نبی کریم نے بھی صرف انسانوں کی امانت کے حق ہی ادا نہیں کئے بلکہ اپنے مولیٰ کی امانتوں کے تمام حق ادا کر دکھائے۔ایک دفعہ یمن سے سونا آیا اور رسول اللہ نے تالیف قلبی کی خاطر عرب کے چار سرداروں میں تقسیم فرما دیا ایک شخص نے کہا ہم اس کے زیادہ حق دار تھے۔رسول کریم کو خبر ہوئی تو آپ نے فرمایا کیا اللہ تعالیٰ تو مجھے اہل زمین پر امین مقرر کرے اور تم لوگ مجھے امین نہ سمجھو۔دوسری روایت میں ہے تم مجھے امین نہیں سمجھتے ہو حالانکہ میں اس ذات کا