اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 166 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 166

اسوہ انسان کامل 166 صداقت شعاری میں رسول اللہ کا بلند مقام قرآن تھے اور اسلام و قرآن کا بنیا دی خلق تو سچائی ہی ہے۔حضرت عائشہ کی ایک اور روایت ہے کہ رسول کریم کو جھوٹ سے زیادہ نا پسند اور قابل نفرین اور کوئی بات نہیں تھی۔اور جب آپ کو کسی شخص کی اس کمزوری کا علم ہوتا تو آپ اس وقت تک اس سے کھچے کھچے رہتے تھے جب تک کہ آپ کو معلوم نہ ہو جائے کہ اس شخص نے اس عادت سے تو بہ کر لی ہے۔( ابن سعد ) 2 رشتہ داروں کی گواہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب حکم ہوا کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو دعوت حق پہنچا ئیں تو کوہ صفا پر آپ نے قبائل قریش کو نام لے کر بلایا۔جب وہ اکٹھے ہوئے تو ان سے پوچھا کہ اگر میں تمہیں کہوں کہ اس پہاڑی کے پیچھے سے ایک شکر تم پر حملہ آور ہونے والا ہے تو کیا تم مجھے سچا جانو گے؟ انہوں نے بلا تامل کہا ہاں ! ہم نے کبھی بھی آپ سے جھوٹ کا تجربہ نہیں کیا۔آپ تو ہمیشہ سچ بولتے ہیں۔مگر جب آپ نے انہیں کلمہ توحید کی دعوت دی تو آپ کا چچا ابولہب کہنے لگا ”تیرا برا ہو کیا تو نے اس لئے ہمیں جمع کیا تھا۔( بخاری )3 قرآن شریف میں نبی کی دعوے سے پہلے کی زندگی کو بطور دلیل پیش کرنے میں یہی حکمت ہے کہ بعد میں تو مخالف بھی پیدا ہو جاتے ہیں مگر دعوی سے پہلے سب اس کی راستبازی پر متفق ہوتے ہیں۔ابوطالب کی گواہی ایک دفعہ قریش کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شکایت لے کر رسول اللہ کے چچا ابوطالب کے پاس آیا۔ابو طالب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بلوا کر سمجھایا کہ قریش کی بات مان لو۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے فرمایا کہ اگر تم اس سورج سے روشن شعلہ آگ بھی میرے پاس لے آؤ پھر بھی میرے لئے اس کام کو چھوڑ ناممکن نہیں۔اس پر ابو طالب نے گواہی دی کہ خدا کی قسم! میں نے آج تک کبھی اپنے بھتیجے کو اس کے قول میں جھوٹا نہیں پایا۔یعنی یہ اپنی بات کا پکا اور سچا ہے اور اس پر قائم رہے گا۔میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتا۔( بیہقی ) 4 ابو طالب کی دوسری گواہی شعب ابی طالب کے زمانہ کی ہے۔جب اس محصوری کی حالت میں تیسرا سال ہونے کو آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے علم پا کر ابو طالب کو اطلاع دی کہ بنو ہاشم سے بائیکاٹ کا جو معاہدہ خانہ کعبہ میں لڑکا یا گیا تھا اس کی ساری عبارت کو سوائے لفظ اللہ کے دیمک کھا گئی ہے۔ابوطالب کو رسول اللہ کے قول پر ایسا یقین تھا کہ انہوں نے پہلے اپنے بھائیوں سے کہا کہ خدا کی قسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے آج تک کبھی جھوٹ نہیں بولا۔“ یہ بات بھی لازماً سچ ہے۔چنانچہ وہ ان کے ساتھ سرداران قریش کے پاس گئے اور انہیں بھی کھل کر کہا کہ میرے بھتیجے نے مجھے یہ بتایا ہے کہ تمہارے معاہدہ کو دیمک کھا گئی ہے۔اس نے مجھ سے آج تک جھوٹ نہیں بولا۔بیشک تم جا کر دیکھ لو اگر تو میرا بھتیجا سچا نکلے تو تمہیں بائیکاٹ کا اپنا فیصلہ تبدیل کرنا ہوگا۔اگر وہ جھوٹا ثابت ہوتو میں اُسے