اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 165 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 165

اسوہ انسان کامل 165 صداقت شعاری میں رسول اللہ کا بلند مقام صداقت شعاری میں رسول اللہ کا بلند مقام انسانی سیرت و کردار کی تعمیر میں سب سے اہم وصف صدق لہجہ، سچائی اور راست گفتاری ہے۔در اصل انسان کی باطنی سچائی ہی ہے جس کا اظہار نہ صرف اس کی زبان سے بلکہ سیرت و کردارشی کہ اس کی پیشانی سے بھی جھلکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ماموروں اور فرستادوں کی سچائی کا نشان یہی صداقت شعاری کا خلق ٹھہرایا ہے۔چنانچہ نبی کریم کے ذریعہ اہل مکہ کو یہ خطاب ہوا کہ ان کو کہہ دے اگر اللہ چاہتا تو میں یہ ( قرآن ) تم کو پڑھ کر نہ سنا تا اور نہ اس سے تمہیں آگاہ کرتا۔اس سے پہلے میں تمہارے درمیان عمر کا ایک حصہ گزار چکا ہوں کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔“ ( سورۃ یونس آیت 17 ) اس آیت میں آنحضرت ﷺ کی دعوئی سے پہلے کی زندگی بحیثیت مدعی نبوت راست گفتاری میں بطور مثال کے پیش فرمائی ہے اور بتایا ہے کہ جو شخص بچپن اور جوانی میں انسانوں سے جھوٹ نہیں بولتا وہ بڑھاپے کے قریب خدا پر کیسے جھوٹ باندھ سکتا ہے۔بلاشبہ مدعی نبوت کی صداقت کے لئے یہ ایک بنیادی اور اہم دلیل ہے۔اس پر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کو پرکھا جائے تو آپ کی سچائی روز روشن کی طرح ظاہر و با ہر ہے۔آپ ہی تھے جن کو آغاز جوانی سے ہی اپنے پرائے کبھی امانت دار مانتے تھے۔آپ کا نام ہی ”صدوق‘ پڑ گیا تھا جو بے حد سچ بولنے والے کو کہتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن بھی دعوی نبوت تک کھلم کھلا یہ گواہی دیتے رہے کہ آپ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔اس جگہ ہم رسول کریم کی صداقت کے بارے میں چند شہادتیں پیش کریں گے۔میاں بیوی کی قربت کو قرآن شریف میں بجا طور پر ایک دوسرے کے لباس سے تعبیر کیا گیا ہے۔(سورۃ البقرة : 188 ) پس بیوی سے بڑھ کر کون ہے جو شوہر کے زیادہ قریب ہو اور اس کے اخلاق کے بارے میں اس سے بہتر رائے دے سکے؟ ازواج مطہرات کی گواہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب پہلی وحی کے بعد گھبراہٹ کے عالم میں گھر تشریف لائے تو حضرت خدیجہ نے آپ کو جن الفاظ میں تسلی دی وہ آپ کی صداقت کی زبر دست گواہی ہے۔انہوں نے آپ کی یہ اہم صفت بھی بیان کی کہ آپ تو ہمیشہ سچ بولتے ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی ضائع نہیں کرے گا۔( بخاری ) 1 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں حضرت عائشہ کی بھی یہی گواہی تھی کہ آپ کے اخلاق تو