اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 155 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 155

155 مخبر صادق کے رؤیا وکشوف اور پیشگوئیاں اسوہ انسان کامل پھر بھی جب میدان بدر میں رسول اللہ نے دیکھا کہ قریش کے تجارتی قافلے کی بجائے ایک مسلح لشکر جرار سامنے ہے جو کمزور نہتے مسلمانوں کو تباہ و برباد کرنے کے درپے ہے تو طبعاً آپ کو فکر دامنگیر ہوئی۔تب خدا تعالیٰ کی شان غنا سے ڈرتے ہوئے اور اپنی کمزوری پر نظر کرتے ہوئے رسول اللہ نے دعاؤں کی حد کر دی۔آپ بدر کے دن اللہ تعالیٰ کو اس کے وعدوں کا واسطہ دے دے کر اتنے الحاج سے دعا کر رہے تھے کہ چادر کندھوں سے گر گر جاتی تھی۔آپ اپنے مولیٰ سے سرگوشیاں کر رہے تھے۔اے اللہ تیرے عہدوں اور وعدوں کا واسطہ ! ( تو ہمیں کامیاب کر ) اے اللہ اگر آج تو نے مسلمانوں کی اس جماعت کو ہلاک کر دیا تو کون تیری عبادت کرے گا۔حضرت ابو بکر نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر عرض کیا یا رسول اللہ ! اب بس کریں۔تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے اٹھے۔آپ یہ آیت تلاوت کر رہے تھے۔سَيْهُزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ 0 ( سورة القمر : 46 ) که لشکر ضرور پسپا ہوں گے اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔( بخاری (3) گویا خدا کا پیشگی وعدہ فتح یاد کر کے مسلمانوں کو تسلی دے رہے تھے۔چنانچہ بظاہر نا مساعد حالات میں اللہ تعالیٰ نے بدر کے میدان میں مسلمانوں کو حیرت انگیز فتح عطا فرمائی اور رسول اللہ کی کنکریوں کی ایک مٹھی کفار پر آندھی وطوفان بن کر ٹوٹی اور انہیں پسپا کرنے کا موجب بن گئی۔سرداران قریش کی ہلاکت کی پیشگوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوبدر میں صنادید قریش کی ہلاکت کا کشفی نظارہ پہلے سے کروایا گیا تھا۔اس بارہ میں حضرت انس بیان کرتے تھے کہ ہم مکہ ومدینہ کے درمیان حضرت عمرؓ کے ساتھ شریک سفر تھے۔چنانچہ حضرت عمرؓ فرماتے تھے کہ معرکہ بدر سے ایک روز قبل رسول کریم نے ہمیں مشرک سرداروں کے ہلاک ہونے کی جگہوں کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا یہ فلاں شخص کے ہلاک ہونے کی جگہ ہے اور یہاں فلاں شخص ہلاک ہو گا۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں پھر ہم نے دیکھا کہ وہ لوگ و ہیں گر گر کر ہلاک ہوئے جہاں رسول خدا نے بتایا تھا۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کوحق کے ساتھ بھیجا ہے۔آپ نے ان کے گر کر ہلاک ہونے کی جو جگہیں بتائی تھیں، ان میں ذرا بھی غلطی نہیں ہوئی۔(مسلم)4 غزوہ بدر میں قریش کے چوبیس سردار ہلاک ہوئے۔انہیں بدر کے ایک گڑھے میں ڈالا گیا۔تیسرے دن بدر سے گوچ کے وقت رسول کریم اس گڑھے کے کنارے کھڑے ہو کر ان سرداروں اور ان کے باپوں کے نام لے کر پکارنے لگے۔آپ فرماتے تھے ”اے فلاں کے بیٹے کیا تمہیں یہ بات خوش کرتی ہے کہ تم نے اللہ اور رسول کی اطاعت کی ہوتی ؟ ہم نے تو اپنے رب کے وعدوں کو سچا پا لیا کیا تم نے اپنے رب کا وعدہ حق پایا ہے یا نہیں؟ حضرت عمر نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ ان بے جان جسموں سے کلام کر رہے ہیں، آپ نے فرمایا ” اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، جو باتیں میں کہہ رہا ہوں وہ انکو تم سے زیادہ سمجھ رہے ہیں۔“ (یعنی اپنے ظلموں کی جزا پا کر )۔( بخاری )5