اسوہء انسانِ کامل — Page 154
اسوہ انسان کامل 154 مخبر صادق کے رؤیا وکشوف اور پیشگوئیاں ا۔نبی کریم کی زندگی میں ظاہری رنگ میں پوری ہونے والی رویا پہلی قسم اُن رویا ء وكشوف اور پیش گوئیوں کی ہے، جو نبی کریم کی حیات مبارکہ میں ہی واضح طور پر اپنے ظاہری رنگ میں من وعن پوری ہو گئیں۔حضرت عائشہ سے شادی کی رؤیا حضرت عائشہ کے ساتھ شادی سے قبل ان کی تصویر دکھا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ یہ آپ کی بیوی ہے۔ظاہری حالات میں یہ بات نا ممکن نظر آتی تھی کیونکہ حضرت عائشہ کی منگنی دوسری جگہ طے ہو چکی تھی اور یوں بھی نبی کریم اور حضرت عائشہ کی عمروں کا فرق ہی چالیس سال سے زائد تھا۔اس پیشگی غیبی خبر پر کامل ایمان کے باوجود آنحضور نے کمال احتیاط سے اس کی تعبیر کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس رؤیا کا ظاہری رنگ میں پورا ہونا ہی مراد ہے تو وہ خود اس کے سامان پیدا فرماوے گا۔( بخاری )2 پھر بظاہر ناموافق حالات کے باوجود اللہ تعالیٰ نے یہ بات غیر معمولی رنگ میں پوری کر دکھائی اور جبیر بن مطعم سے منگنی ختم ہونے کے بعد کم سن حضرت عائشہ رسول اللہ کے عقد میں آئیں اور اُم المؤمنین کا اعزاز ان کو عطا ہوا۔مکی دور میں فتح بدر کی پیش گوئی ان پیشگوئیوں میں سے ایک غزوہ بدر کی فتح کی پیش گوئی بھی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی مکہ ہی میں تھے اور مسلمان انتہائی کمزور اور مظلوم و مقہور ہو چکے تھے۔ایک طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پہلی قوموں کی قربانیوں کی مثالیں دے کر صبر کی تلقین فرماتے تھے۔دوسری طرف اللہ تعالیٰ کے تازہ نشان بھی مسلمانوں کے لئے انشراح صدر اور مضبوطی ایمان کا موجب ہوتے تھے۔جیسے شق قمر کا معجزہ وغیرہ۔چاند جوعربوں کی حکومت کا نشان تھا۔اس کے دوٹکڑے کر کے دکھانے میں یہ بلیغ اشارہ بھی تھا کہ قریش کی حکومت ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گی اور انکی وحدت ملی پارہ پارہ ہوکر رہے گی۔سورۃ قمر (جس میں واقعہ شق قمر کا ذکر ہے ) میں واشگاف الفاظ میں مسلمانوں کے مقابل پر کفار کے ایک بڑے گروہ کی پسپائی کا ذکر ہے۔فرمایا سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَه ( القمر :46) یعنی (اس روز قریش کی ) جمعیت پسپا ہوگی اور یہ ( اور ان کے لشکر ) پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہونگے۔کمزوری کے اس زمانے میں دشمن اس پیشگوئی کو دیوانے کی ایک بڑ کہہ سکتے تھے اور اسی لئے ساحر و مجنون کے الزام لگاتے تھے۔پھر اللہ تعالیٰ نے جس شان سے ان وعدوں کو پور ا فر مایا اس پر اہل مکہ بھی انگشت بدنداں ہو کر رہ گئے۔چنانچہ بدر کے موقع پر اس پیشگی وعدہ فتح کی توثیق کرتے ہوئے فرمایا۔وَاذْيَعِدُكُمُ اللَّهُ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ انَّهَالَكُمْ ( سورة الانفال:8 ) کہ اس وقت کو یاد کرو جب اللہ تمہیں دو گروہوں ( یعنی لشکر کفار اور قافلہ ) میں سے ایک کا وعدہ دے رہا تھا کہ اس پر تم کو فتح ہوگی۔