اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 146 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 146

146 رسول اللہ کی قبولیت دعا کے راز اسوہ انسان کامل بیٹھے تھے۔ان سرداروں میں سے کسی ظالم نے مشورہ دیا کہ فلاں محلہ میں جو اونٹنی ذبح ہوئی ہے کوئی جا کر اس کی بچہ دانی اٹھا لائے اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) جب سجدہ میں جائیں تو ان کی پشت پر رکھ دے۔ان میں سے ایک بد بخت معقبہ بن ابی معیط اٹھا اور اونٹنی کی گند بھری بچہ دانی اٹھالایا اور دیکھتار ہا جو نہی نبی کریم سجدہ میں گئے اس نے غلاظت بھرا وہ بوجھ آپ کی پشت پر دونوں کندھوں کے درمیان رکھ دیا۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہا کرتے تھے کہ میں یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی رسول خدا کی کچھ مدد نہ کر سکتا تھا۔بس کفِ افسوس ملتا رہ گیا کہ اے کاش ان دشمنان رسول کے مقابل پر مجھے اتنی توفیق ہوتی کہ آپ سے یہ بوجھ دور کر سکتا۔اُدھر ان مشرک سرداروں کا یہ عالم تھا کہ رسول اللہ کو اذیت میں دیکھ کر استہزا کرتے ہوئے ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوئے جارہے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدہ کی حالت میں پڑے تھے، بوجھ کی وجہ سے سر نہیں اٹھا سکتے تھے۔یہاں تک کہ آپ کی لخت جگر حضرت فاطمہ تشریف لائیں اور آپ کی پشت سے وہ غلاظت کا بوجھ ہٹایا۔تب آپ نے سجدے سے سر اٹھایا۔عبادت الہی سے روکنے اور استہزا کرنے والے ان جانی دشمنوں کے حق میں رسول اللہ نے یہ فریاد کی ” اَللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشِ“۔اے اللہ! ان قریش کو تو خود سنبھال۔یہ دعا بھی قبول ہوئی اور خدائی گرفت ان دشمنان رسول پر بدر کے دن آئی اور رسول اللہ نے ان کا یہ عبرت ناک انجام بچشم خود دیکھا کہ میدان بدر میں ان کی لاشیں اس حال میں پڑی تھیں کہ تمازت آفتاب سے ان کے حلیے بگڑ چکے تھے۔( بخاری 79) یہ تھا دشمنان رسول کا عبرتناک انجام جو رسول اللہ کی دعا کے نتیجہ میں ظاہر ہوا۔(43) رسول اللہ نے کسری شاہ ایران کو تبلیغ کے لئے خط لکھا تو اس نے وہ پھاڑ کر ریزہ ریزہ کر دیا۔آپ نے دعا کی کہ اے اللہ ! اس کی سلطنت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دئے“۔( بخاری )80 تاریخ شاہد ہے دنیا کی عظیم الشان سلطنت کے بارہ میں یہ دعا کس طرح حیرت انگیز طور پر قبول ہوئی کہ چند ہی سالوں میں سلطنت کسری کے ایوان میں ایسا انتشار اور تزلزل بر پا ہوا کہ شاہان کسری اندرونی خلفشار کا شکار ہوکر ہلاک ہوئے اور یہ سلطنت رفتہ رفتہ نابود ہو کر رہ گئی۔عتیبہ بن ابی لہب جب اپنی فتنہ پردازیوں اور شر انگیزیوں سے باز نہ آیا تو آپ نے دعا کی کہ اے اللہ اس پر کوئی کتا مسلط کر دے“۔تھوڑے ہی عرصہ میں وہ تجارتی قافلہ کے ساتھ شام گیا خود کہتا تھا کہ مجھے محمد کی بد دعا سے ڈرلگتا ہے۔ساتھیوں نے تسلی دی اور رات اس کا پہرہ دے کر حفاظت کرتے رہے۔مگر اچانک ایک بھیڑ یا آیا ، اسے اُٹھا کرلے گیا اور اسے ہڑپ کر گیا۔( ابن حجر )81 (44) ایک اور معاند اسلام حکم بن ابی العاص سر کی جنبش اور آنکھ کے اشاروں سے آنحضرت کا تمسخر اڑاتا تھا۔آپ نے ایک دفعہ فرمایا ”خدا کرے اسی طرح ہو جاؤ۔اس پر ایسار عشہ طاری ہوا کہ آخری سانس تک رہا اور وہ اس حال میں مرا کہ آنکھوں کو حرکت دیتے دیکھا گیا۔( عیاض) 82