اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 145 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 145

اسوہ انسان کامل 145 رسول اللہ کی قبولیت دعا کے راز اور قسطنطنیہ میں آپ کا مزار آج بھی محفوظ ہے اور زیارت گاہ خاص و عام ہے۔(حلبیہ (76 (40) رسول کریم نے اپنے صحابی سعد کے لئے دعا کی تھی کہ اے اللہ ! سعد کی دعائیں قبول کرنا۔اس دعا نے حضرت سعد کو مستجاب الدعوات بزرگ بنادیا تھا۔حضرت عمر کے زمانہ میں آپ کوفہ کے گورنر تھے۔ایک شخص ابوسعدہ نے ان پر بے انصافی اور خیانت کا الزام لگایا۔حضرت سعد کو پتہ چلا تو انہوں نے دعا کی کہ اے اللہ! اگر مشخص جھوٹا ہے تو اس کو لمبی عمر اور دائمی غربت دے۔اس کی بینائی چھین لے اور اسے فتنوں کا نشانہ بنادے۔اُسے حضرت سعد کی یہ دعا ایسے لگی کہ آخری عمر میں اندھا اور فقیر ہو کر مارا مارا پھرتا تھا اور گلیوں میں بچے بھی اسے چھیڑتے تھے۔چنانچہ جب تک سعد زندہ رہے ان کے دعائیہ نشان کی وجہ سے لوگ ان کی بددعا سے ڈرتے تھے اور ان سے دعائے خیر کی تمنا رکھتے تھے۔(سیوطی ) 77 (41) حضرت حویرث بیان کرتے ہیں 9ھ میں وفد تجیب رسول کریم کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپ ان کی آمد پر بہت خوش ہوئے اور انعام واکرام عطا کرنے کے بعد پوچھا کہ کیا وفد میں سے کوئی پیچھے تو نہیں رہ گیا۔انہوں نے بتایا کہ ایک نوجوان ہمارے خیمہ گاہ پر حفاظت کی خاطر رہ گیا ہے۔آپ نے فرمایا اسے بھی میرے پاس بھجوا ؤ۔وہ جواں سال لڑکا آکر کہنے لگا کہ میں اسی قافلہ کا فرد ہوں جو ابھی آپ سے انعام و اکرام لے کر رخصت ہوا۔جس طرح آپ نے ان کی حاجات پوری فرمائی ہیں میری حاجت بھی پوری کریں۔آپ نے فرمایا حاجت بتاؤ؟ سعادت مند نوجوان نے عرض کیا بس یہی کہ آپ میرے حق میں بخشش اور رحمت کی دعا کریں کہ مولیٰ کریم میرے دل میں غنا پیدا کر دے پھر حضور نے اُسے باقی ساتھیوں جیسا انعام بھی عطا فرمایا۔اگلے سال حج کے موقع پر اس قبیلہ کے لوگ رسول کریم سے ملے تو آپ نے ان سے اس نوجوان کے بارے میں پوچھا کہ وہ کیسا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ہم نے اس جیسا کوئی اور نہیں دیکھا ، نہ ہی اس سے بڑھ کر کوئی قناعت پسند پایا۔( ابن الجوزی) 78 قہری دعاؤں کے نشان دعاؤں کی یہ عظیم الشان برکات پانے والے سعادت مندوں کے بالمقابل کچھ ایسے بد بخت بھی تھے جو اپنی شقاوت ازلی کے نتیجہ میں رسول اللہ کی دعا سے اللہ تعالیٰ کی قہری تحتی کے مورد بنے۔(42) نبی کریم نے ہمیشہ دشمن کی بھی خیر خواہی فرمائی۔طائف میں آپ کو لہولہان کر نیوالے ہوں یا اُحد کے میدان میں خون آلود کر نے والے۔آپ نے ان کی ہدایت کی ہی دعا کی۔مگر کبھی ایسا بھی ہوا کہ جب جانی دشمن حد سے بڑھ گئے اور رسول خدا کو عبادت الہی سے روکنے لگے تو آپ نے عذاب الہی کا نشان مانگا۔خدا تعالیٰ نے خوب آپ کی نصرت فرمائی۔ایک دفعہ رسول کریم بیت اللہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے اور ابو جہل اور اس کے ساتھی بھی صحن کعبہ میں مجلس لگائے