اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 56 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 56

اسوہ انسان کامل 56 شمائل نبوی اکرام کا سلوک فرماتے۔( بخاری ) 69 گھریلو زندگی کا ایک نہایت دلکش اور قابل رشک نظارہ خود حضرت عائشہ کی زبانی سنیئے۔آپ بیان فرماتی ہیں کہ میں گھر میں بیٹھی چرنے پر سوت کات رہی تھی اور نبی کریم اپنے جوتے کی مرمت فرمارہے تھے کہ آپ کی پیشانی مبارک پر پسینہ آ گیا، پسینہ کے قطرے آپ کے پر نور چہرے پر دمک رہے تھے اور ایک روشنی ان سے پھوٹ رہی تھی۔میں موحیرت ہوکر یہ حسین نظارہ دیکھنے میں مگن تھی کہ نا گہاں رسول اللہ کی نظر مجھ پر پڑگئی۔آپ نے میری حالت بھانپ کر فرمایا عائشہ ہے تم اسی کھوئی کھوئی اور حیران و ششدر کیوں ہو؟ میں نے عرض کیا ابھی جو آپ کی پیشانی مبارک پر پسینہ آیا تو اس کے قطرات سے ایک عجب نور پھوٹتے میں نے دیکھا اگر شاعر ابو کبیر ھذ لی آپ کو اس حال میں دیکھ لیتا تو اسے ماننا پڑتا کہ اس کے شعر کے مصداق آپ ہی ہیں۔رسول کریم نے فرمایا اچھا! ابوکبیر کے وہ شعر تو سناؤ۔میں نے شعر سنائے جن میں ایک یہ تھا۔فَإِذَا نَظَرُتَ إِلَى أَسِرَّةِ وَجُهِهِ بَرَقَتْ كَبَرُقِ الْعَارِضِ المُتَهَدِّل کہ تم میرے محبوب کے روشن چہرے کے خدوخال کو دیکھو تو تمہیں اس کی چمک دمک بادل سے چمکنے والی بجلی کی طرح معلوم ہو۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں یہ شعر سن کر رسول کریم جوش محبت اور فرط مسرت سے اٹھ کھڑے ہوئے اور میری پیشانی کا بوسہ لے کر فرمانے لگے۔اے عائشہ! اللہ آپ کو بہترین جزا عطا فرمائے۔شاید تم نے مجھے اس حال میں دیکھ کر اتنا لطف نہیں اُٹھایا ہوگا۔جتنا مزا مجھے آپ سے یہ شعر سن کر آیا ہے۔( سیوطی ) 70 اپنے صحابہ کی ضروریات اور جذبات کا بے حد احساس تھا۔ان کے حالات سے باخبر رہتے مگر کسی کے خلاف یکطرفہ کوئی بات سننا گوارہ نہ کرتے۔فرماتے تھے کہ اپنے اصحاب کیلئے میرا سینہ صاف رہنے دو۔(ابوداؤد ) 71 صحابہ کو فاقہ کی تکلیف ہوتی تو اپنے گھر لے جا کر تواضع فرماتے یا پھر صحابہ کوتحریک کر دیتے۔( بخاری ) 72 وہ بیمار ہوتے تو اُن کی عیادت کرتے۔اپنے یہودی خادم کا حال پوچھنے اس کے گھر گئے۔بوقت عیادت مریض پر ہاتھ پھیر تے اور شفا کی دعا کرتے۔( بخاری ) 73 اپنے ساتھیوں پر خاص توجہ فرماتے۔کوئی ساتھی راستہ میں مل جاتا تو رک کر اس سے ملتے اور کھڑے رہتے یہاں تک کہ وہ خودا جازت لیتا۔کسی سے مصافحہ کرتے تو اس وقت تک ہاتھ نہ چھوڑتے جب تک وہ نہ چھوڑے۔( ترمذی )74 اپنے ساتھیوں سے تحائف قدر دانی کے ساتھ وصول فرماتے تھے۔خوشبو اور دودھ کا تحفہ کبھی رد نہ فرماتے اور بدلہ