اسوہء انسانِ کامل — Page 556
اسوہ انسان کامل چنانچہ فرمایا 556 رسول اللہ کی حیرت انگیز تواضع 1۔ہر نبی اپنی خاص قوم کی طرف مبعوث ہوتا تھا مجھے تمام بنی نوع انسان کی طرف بھیجا گیا ہے۔2- مجھے شفاعت کا حق دیا گیا ہے جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں ملا۔3 مجھے خاتم النبین بنایا گیا ہے۔(بخاری مسلم ) 8 مگر اتنے عظیم مقام اور مراتب بیان کرتے ہوئے بھی کبھی فخر اور غرور پیدا نہیں ہوا۔بنی نوع انسان کو خطاب کرتے ہوئے تمام مفاخر کا خلاصہ آپ کا یہ خوبصورت اعلان تھا۔انا سَيِّدُ وُلْدِ آدَمَ وَلَا فَخْرَ کہ میں تمام بنی آدم کا سردار ہوں مگر اس پر کوئی فخر نہیں کرتا۔(مسند احمد 9) بلکہ حکم الہی کی تعمیل میں اظہار حقیقت کے لئے مجھے یہ کہنا پڑتا ہے۔یہ تھی رسول اللہ کی تواضع اور انکساری کی دلی کیفیت! تواضع کی جزا رفعت روحانی رسول اللہ کے قلب مطہر سے بھی اس پاکیزہ تعلیم کے چشمے پھوٹے اور آپ نے خدا سے علم و عرفان پا کر اپنے تجربہ سے یہ حقیقت آشکار فرمائی۔مَا تَوَاضَعَ اَحَدٌ لِلَّهِ الْأَرَفَعَهُ الله کہ بندہ جب خدا کے لئے انکساری کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ضرور اُس کو رفعت عطا کرتا ہے۔( مسلم ) 10 رسول اللہ کی اپنے مولیٰ کے حضور تضرع و ابتہال اور بجزو نیاز کا کچھ اندازہ آپ کی اس عاجزانہ مناجات سے بھی ہو سکتا ہے۔جو آپ نے حجتہ الوداع میں عرفات کی شام میں کی۔”اے اللہ تو میری باتوں کو سنتا ہے اور میرے حال کو دیکھتا ہے میری پوشیدہ باتوں اور ظاہر امور سے تو خوب واقف ہے۔میرا کوئی بھی معاملہ تجھ پر کچھ بھی تو مخفی نہیں ہے۔میں ایک بد حال فقیر اور محتاج ہی تو ہوں، تیری مدد اور پناہ کا طالب، سہما اور ڈرا ہوا ، اپنے گناہوں کا اقراری اور معترف ہو کر تیرے پاس چلا آیا ) ہوں میں تجھ سے ایک عاجز مسکین کی طرح سوال کرتا ہوں ( ہاں ! ) تیرے حضور میں ایک ذلیل گناہگار کی طرح زاری کرتا ہوں۔ایک اندھے نا بینے کی طرح ( ٹھوکروں سے ) خوف زدہ تجھ سے دعا کرتا ہوں۔میری گردن تیرے آگے جھکی ہوئی ہے اور میرے آنسو تیرے حضور بہ رہے ہیں۔میرا جسم تیرا مطیع ہو کر سجدے میں گرا پڑا ہے اور ناک خاک آلودہ ہے۔اے اللہ ! تو مجھے اپنے حضور دعا کرنے میں بد بخت نہ ٹھہرا دینا اور میرے ساتھ مہربانی اور رحم کا سلوک فرمانا۔اے وہ جو سب سے بڑھ کر التجاؤں کو قبول کرتا اور سب سے بہتر عطا فرمانے والا ہے۔( میری دعا قبول کر لینا )۔( ہیمی ) 11 رسول کریم ﷺ کو جو بلند مقام عطا ہوا اُس میں تواضع اور انکسار کو بھی ایک دخل تھا۔چنانچہ حضرت ابوھریرہ اور حضرت ابن عباس راوی ہیں کہ اسرافیل نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس تواضع کی بدولت جو آپ نے اس کے لئے اختیار کی یہ انعام عطا کیا ہے کہ آپ قیامت کے روز تمام بنی آدم کے سردار ہو نگے۔سب سے اول حشر بھی آپ کا ہو گا۔سب سے پہلے شفیع بھی آپ ہو نگے ، جو ایک عالم کو اپنی شفاعت کے