اسوہء انسانِ کامل — Page 555
اسوہ انسان کامل 555 رسول اللہ کی حیرت انگیز تواضع تین دفعہ فرشتہ نے اقرا“ کہہ کر پڑھنے کے لئے کہا اور ہر دفعہ وہی کمال انکساری کا جواب پا کر محبت کی آگ اس کے دل میں ایسی شعلہ زن رہی کہ وہ بے اختیار ہو کر آپ سے چمٹ جاتا ہی کہ فرشتہ نے باصرار خدا کی امانت آپ کے سپرد کر دی۔مگر آپ کا انکسار دیکھو کہ ( پھر بھی تسلی نہیں ہوتی اور گھبرائے ہوئے حضرت خدیجہ کے پاس جاتے اور فرماتے ہیں۔مجھے اپنی جان اور زندگی کے بارہ میں خوف ہے۔اے نبیوں کے سردار ! اے تمام کمالات انسانی کے جامع ! اے بنی نوع انسان کے لئے ایک ہی رہنما اور ھادی! میری جان آپ پر قربان ہو آپ اب بھی اپنے کمالات سے آنکھیں بند کرتے اور یہی خیال کرتے ہیں کہ میں اس قابل کہاں کہ اس خدائے واحد لاشریک کے کام کا بوجھ اٹھانے والا بنوں۔تواضع کا اعلیٰ مقام دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فقرہ بھی کہ میں اپنی جان پر ڈرتا ہوں تواضع کے عالی مقام پر فائز ہونے کا ثبوت ہے۔چنانچہ پہلے الہام سے آپ کی گھبراہٹ اس لئے تھی کہ کہیں یہ کلام مجھ پر آزمائش بن کرنہ اترا ہو۔اس لئے اپنا خوف حضرت خدیجہ کے آگے بیان فرمایا۔حضرت خدیجہ نے جو آپ کو تسلی دلائی وہ بھی آپ کی اعلیٰ درجہ کی انکساری کی گواہی دیتی ہے۔اس کا حاصل یہ تھا کہ تیرے جیسے کاموں والا انسان ضائع نہیں ہوسکتا کیونکہ آپ تو رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرتے ہیں، اور کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں اور جو اخلاق فاضلہ دنیا سے اُٹھ گئے ہیں وہ آپ قائم کرتے ہیں۔مہمان کی اچھی طرح سے خاطر کرتے ہیں۔مصیبتوں میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔یہ سب کام رسول کریم کے اعلیٰ درجہ کا انکسارظاہر کرتے ہیں اور ان کے بیان سے حضرت خدیجہ کا مطلب یہ تھا کہ آپ پر یہ الہام بطور آزمائش نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعام کے طور پر ہے۔( بخاری )7 علامہ قاضی عیاض نے اپنی سیرت کی مشہور کتاب الشفاء میں لکھا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تواضع سب لوگوں سے بڑھ کر اور کبر سب سے کم تھا۔بعض علماء نے اس پر تنقید کرتے ہوئے اس خیال کا اظہار کیا کہ حضور میں کبر تھا ہی نہیں۔ایک پہلو سے یہ بھی درست ہے اور دوسرے پہلو سے علامہ عیاض کی بات بھی قابل فہم نظر آتی ہے، جب اس سے مراد یہ لی جائے کہ آنحضور نے اپنے مقام و منصب کی عظمت کا اظہار کیا بھی ہے تو ارشاد دربانی کی تعمیل میں ایسا کیا، ورنہ آپ اپنی خوبی یا نیکی کا اظہار پسند نہیں فرماتے تھے بلکہ بسا اوقات غائب کے صیغہ میں اُس کا ذکر فرما دیتے تھے۔تا لوگوں کو نیکی کی تحریک ہو۔حقیقت یہ ہے کہ اصل کبریائی تو خدائے وحدہ لا شریک کو ہی زیبا ہے، لیکن اس کے بعد جن وجودوں پر اس کی عظمت کا پر تو پڑتا ہے ، ان کو حکم ملتا ہے کہ اپنے مقام کا اظہار کرو۔ان کو اپنے خدا داد مقام و مرتبہ کا اظہار دنیا پر اتمام حجت کے لئے کرنا پڑتا ہے۔یہ تواضع حقیقی کے خلاف نہیں ہوتا۔دراصل تواضع کے موقع پر تواضع کا اظہار ہی اصل خُلق ہے۔چنانچہ ہمارے آقا و مولاشہنشاہ دو عالم کو حسب حکم الہی دنیا کو دیگر انبیاء کے مقابل پر اپنا امتیازی مقام بتانا پڑا۔