اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 542 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 542

اسوہ انسان کامل 542 نبی کریم کی شان تو کل علی اللہ نے آکر دفاع اور مقابلہ کی اجازت چاہی تو رسول کریم نے انتقام لینے کی بجائے انہیں صبر اور تو کل کی ہی نصیحت فرمائی۔اور فرمایا تم سے پہلی قوموں کے سروں پر آرے رکھ کر انہیں چیرا گیا اور لوہے کی گرم کنگھیوں سے ان کا گوشت ہڈیوں سے نو چا گیا مگر یہ مظالم انہیں اپنے دین سے نہ ہٹا سکے۔اور یاد رکھو اللہ تعالیٰ اسلام کو ترقی اور عظمت اور غلبہ عطا کرے گا۔یہاں تک کہ ایک مسافر (عرب کے ایک سرے ) صنعاء سے ( دوسرے سرے) حضر موت تک تنہا سفر کرے گا اور خدا کے سوا اسے کسی کا خوف نہ ہوگا۔( بخاری )16 خود رسول کریم نے مصائب و آلام برداشت کرتے ہوئے اپنے اصحاب کو ہمیشہ خدا پر بھروسہ کرنے کا شاندار نمونہ دیا۔آپ کی زندگی کا ایک بہت بڑا ابتلاء شعب ابی طالب میں آپ کے خاندان اور اصحاب کی محصوری کا سہ سالہ دور ہے۔جس میں آپ کے ساتھ لین دین، خرید و فروخت ، شادی بیاہ وغیرہ کے سب تعلقات منقطع کر دیے گئے اور تمام اسباب معدوم ہو کر رہ گئے۔ہر لحظہ و ہر آن آپ کی ذات کو خطرہ لاحق ہوتا تھا مگر یہ زمانہ بھی آپ نے خدا کی ذات پر کامل تو کل کرتے ہوئے گزارا۔پھر خدا تعالیٰ نے بھی کسی طرح غیب سے آپ کی نصرت فرمائی اور بائیکاٹ کے معاہدہ کو دیمک کھا گئی۔شعب ابی طالب سے باہر آئے تو اہل مکہ سے مایوس ہو کر طائف کا رُخ کیا۔اس سفر میں بھی دنیا نے آپ سے ایک عجیب شان تو کل کا نظارہ دیکھا۔خدا کا نبی تن تنہا کس مردانگی اور شجاعت سے ایک اجنبی دیس میں جا کر سردارانِ طائف کو مخاطب کرتا اور بے دھڑک خدا کا پیغام پہنچاتا ہے۔نہ اپنی جان کا خوف ہے نہ کسی اور خطرے کی پر واہ۔بس ایک ہی لو گی ہے کہ کس طرح حق تبلیغ ادا ہو جائے۔بھروسہ ہے تو ایک اللہ کی ذات پر۔سفر طائف سے واپسی پر بھی رسول اللہ کے تو کل کا عجیب منظر دیکھنے میں آیا۔رسول اللہ نے کچھ روز نخلہ میں قیام فرمایا۔زید بن حارثہؓ نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اب آپ مکہ میں کیسے داخل ہونگے جب کہ وہ آپ کو نکال چکے ہیں۔رسول اللہ نے کس شان تو کل سے جواب دیا کہ اے زیڈ ! تم دیکھو گے اللہ تعالیٰ ضرور کوئی راہ نکال دے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے دین کا مددگار ہے، وہ اپنے نبی کو غالب کر کے رہے گا۔چنانچہ نبی کریم نے سردارانِ قریش کو پیغام بھجوائے کہ آپ کو اپنی پناہ میں لے کر مکہ داخلہ کا انتظام کریں۔کئی سرداروں کے انکار کے بعد بالآخر مکہ کے ایک شریف سردار مطعم بن عدی نے آپ کو اپنی پناہ میں مکہ میں داخل کرنے کا اعلان کیا۔( ابن سعد )17 تو کل میں دعا کے ساتھ تدبیر بھی ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ نے رسول کریم کو بذریعہ وحی ہجرت مدینہ کے وقت بعض تدابیر اختیار کرنے کا حکم دیا۔چنانچہ جبریل نے رسول کریم کو ہجرت کی رات آکر پیغام دیا کہ آپ جس بستر پر سوتے ہیں آج رات اس پر نہ سوئیں جب رات کا اندھیرا ہوا تو مشرکین آکر انتظار کرنے لگے کہ جو نبی رسول اللہ اپنے بستر پر سوئیں وہ حملہ کر دیں گے۔رسول کریم نے ان کو دیکھ کر حضرت علی کو حکم دیا کہ وہ آپ کے بستر پر سو جائیں اور آپ کی سبز 66 چادر اوپر اوڑھ لیں۔انشاء اللہ انہیں کوئی نقصان نہ ہوگا۔( ابن ہشام ) 18 اور پھر ایسا ہی ہوا۔ہجرت مدینہ میں قدم قدم پر رسول اللہ کے تو کل الہی کے نظارے دیکھنے میں آتے ہیں۔