اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 524 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 524

اسوہ انسان کامل 524 رسول کریم کا عدیم المثال عفو و کرم پھر اس موقع پر جو معاہدہ کیا اسے توڑنے اور پامال کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔سب سے بڑھ کر یہ کہ فتح مکہ کے موقع پر امن کے اعلانِ عام کے باوجود ہتھیار نہ ڈالے بلکہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ خالد بن ولید کے دستے کی مدد سے مسلمانوں پر حملہ کر کے حرم میں خونریزی کا موجب بنا۔اپنے ان گھناؤنے جرائم کی معافی کی کوئی صورت نہ دیکھ کر فتح مکہ کے بعد عکرمہ یمن کی طرف بھاگ کھڑا ہوا۔اس کی بیوی اُم حکیم مسلمان ہوگئی تھی۔وہ رسول کریم کے دربار عفو سے اپنے خاوند کی معافی اور امن کی طالب ہوئی۔سبحان اللہ ! حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس جانی دشمن کے لئے بھی امان نامہ عطا فر مایا۔اس کی بیوی تلاش میں اس کے پیچھے گئی ، اور بالآخر اسے جالیا اور کہا ” میں اس عظیم انسان کے پاس سے آئی ہوں جو بہت ہی صلہ رحمی کر نیوالا ہے۔تم اپنے آپ کو ہلاک مت کرو۔میں تمہارے لئے پروانہ امان لے کر آئی ہوں۔عکرمہ کو اپنے جرائم کے خیال سے معافی کا یقین تو نہ آتا تھا مگر اپنی بیوی پر اعتماد کرتے ہوئے واپس لوٹ آیا۔جب رسول اللہ کے دربار میں حاضر ہوا تو رسول کریم نے اسے بھی معاف کر دیا۔(الحلبیہ ( 19 عکرمہ پر لطف و کرم رسول کریم نے اپنے جانی دشمن عکرمہ کو نہ صرف معاف کیا بلکہ اس کے ساتھ کمال شفقت و محبت کا سلوک کیا۔پہلے تو اپنے اس جانی دشمن کو خوش آمدید کہا اور دشمن قوم کے اس سردار کے اعزاز کیلئے کھڑے ہو گئے۔(مالک) 20 اپنی چادر اس کی طرف پھینک دی جو امان عطا کرنے کے علاوہ احسان کا اظہار بھی تھا۔پھر فرط مسرت سے اس کی طرف آگے بڑھے۔عکرمہ نے عرض کیا میری بیوی کہتی ہے آپ نے مجھے معاف فرما دیا ہے۔آپ نے فرمایا ہاں یہ درست کہتی ہے۔یہ سن کر عکرمہ کا سینہ کھل گیا اور وہ بے اختیار کہہ اٹھا۔اے محمد ! واقعی آپ تو بہت ہی صلہ رحمی کرنیوالے اور بے حد حلیم اور بہت ہی کریم ہیں۔میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔تب ہمارے آقا کی خوشی دیکھنے والی تھی ، مشرکین کے لشکر کا سالار مسلمان ہو رہا تھا ، آج رسول اللہ کی خوشیوں کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا ، آپ کے خوابوں کی تعبیریں پوری ہو رہی تھیں۔آپ نے ایک رویا میں ابو جہل کے ہاتھ میں جنتی پھل انگور کے خوشے دیکھے تھے، آج ابو جہل کے بیٹے عکرمہ کے قبول اسلام سے اس کی تعبیر ظاہر ہوئی۔رسول اللہ خوشی سے مسکرا ر ہے تھے۔صحابہ نے استفسار کیا تو فرمایا کہ میں خدا کی شان اور قدرت پر حیران ہو کر خوشی سے مسکراتا ہوں کہ بدر میں عکرمہ نے جس مسلمان صحابی کو قتل کیا تھا وہ شہیدصحابی اور عکرمہ دونوں جنت میں ایک ہی درجے میں ہوں گے۔بعد میں جنگ یرموک میں عکرمہ کی شہادت سے یہ بات مزید کھل کر ظاہر ہو گئی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عکرمہ کے اسلام سے خوش ہو کر فرمایا کہ اے عکرمہ! آج جو مانگنا ہے مجھ سے مانگ لو میں اپنی توفیق واستطاعت کے مطابق تمہیں عطا کرنے کا وعدہ کرتا ہوں۔یہ موقع تھا کہ سردار مکہ کا بیٹا شہنشاہ عرب سے منہ مانگا انعام لے سکتا تھا، مگر اب وہ دنیا دار عکرمہ یکسر بدل چکا تھا۔تو حید ورسالت کا صدق دل سے اقرار کر کے اور