اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 523 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 523

اسوہ انسان کامل ہے۔(حلبیہ (16 16 523 رسول کریم کا عدیم المثال عفو و کرم رسول کریم کے دامن عفو سے کوئی بھی خالی ہاتھ نہ لوٹا۔حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ انصار مدینہ میں سے ایک شخص مسلمان ہونے کے بعد مرتد ہو کر مشرکوں سے جاملا۔پھر ندامت ہوئی تو اپنی قوم کو پیغام بھجوایا کہ رسول اللہ سے بعد مرتد ہو پھر ہوئی تواپنی قوم کوپیغام کہ رسول اللہ پوچھو کیا میری تو بہ بھی قبول ہو سکتی ہے؟ اس کی قوم کے لوگوں نے رسول اللہ سے پوچھا کہ فلاں شخص اب نادم ہو کر تو بہ کا طالب ہے۔اس پر یہ آیات اُتریں اُولئِكَ جَزَاؤُهُمُ أَنَّ عَلَيْهِمْ لَعْنَةَ اللَّهِ وَالْمَلَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ خَلِدِينَ فِيهَا لاَ يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (آل عمران: 87 تا 90) ان آیات میں ارتداد کے بعد تو بہ اور اصلاح کی صورت میں اللہ کی بخشش کا ذکر ہے۔رسول کریم نے اس شخص کو معافی کا پیغام بھجوایا اور اس نے اسلام قبول کر لیا۔(نسائی) 17 واجب القتل مجرموں سے عفو چند واجب القتل مجرموں میں ایک شخص ہبار بن الاسود بھی تھا جس نے رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی حضرت زینب پر مکہ سے مدینہ ہجرت کے وقت نیزے سے قاتلانہ حملہ کیا اور وہ اونٹ پر سے ایک پتھریلی چٹان پر گر گئیں۔اس حادثہ کے نتیجہ میں ان کا حمل ضائع ہو گیا اور بالآخر یہی چوٹ ان کے لئے جان لیوا ثابت ہوئی۔اس جرم کی بناء پر حضور نے اس کے قتل کا فیصلہ فرمایا تھا۔فتح مکہ کے موقع پر تو یہ بھاگ کر کہیں چلا گیا۔بعد میں جب نبی کریم واپس مدینہ تشریف لائے۔ہبار حضور کی خدمت میں حاضر ہوا اور رحم کی بھیک مانگتے ہوئے عرض کیا کہ پہلے تو میں آپ کے ڈر سے فرار ہو گیا تھا مگر پھر آپ کے عفو و رحم کا خیال مجھے آپ کے پاس واپس لایا ہے۔اے خدا کے نبی ! ہم جاہلیت اور شرک میں تھے۔خدا نے ہمیں آپ کے ذریعہ ہدایت دی اور ہلاکت سے بچایا۔پس میری جہالت سے صرف نظر فرمائیں بے شک میں اپنے قصوروں اور زیادتیوں کا اقراری اور معترف ہوں۔عفوو کرم کے اس پیکر نے اپنی صاحبزادی کے اس قاتل کو بھی بخش دیا اور فرمایا ”جا اے ھبار! میں نے تجھے معاف کیا۔اللہ کا یہ احسان ہے کہ اس نے تمہیں قبول اسلام کی توفیق دی۔پھر رحمتہ للعالمین ہبار کو بھی محبت بھری تسلیاں دیتے ہیں کہ اسلام قبول کرنا سابقہ گناہوں کا ازالہ کر دیتا ہے۔(حلبیہ ) 18 ابو جہل کے بیٹے کو امان واجب القتل مجرموں میں دشمن اسلام ابو جہل کا بیٹا اور مشرکین مکہ کا سردار عکرمہ بھی تھا جس نے ساری عمر اسلام کی مخالفت اور عداوت میں گزاردی۔مسلمانوں اور بانی اسلام کو وطن سے بے وطن کیا، پھر مدینے میں بھی چین سے بیٹھنے نہ دیا۔ان پر جنگیں مسلط کیں اور ان کے خلاف لشکر کھینچ کر لے آیا۔حدیبیہ کے مقام پر مسلمانوں کو عمرہ کرنے سے روکا اور