اسوہء انسانِ کامل — Page 496
اسوہ انسان کامل 496 ہمارے نبی حامی و ایامی کے والی اور محافظ دل سے یہ دعا کی۔اے اللہ جعفر کے اہل وعیال کا خود حافظ و ناصر ہو اور میری ( عبداللہ کی ) تجارت میں برکت کیلئے بھی دعا کی۔ایک مرتبہ ہماری والدہ اسماء نے حضور کی خدمت میں ہماری یتیمی کا ذکر کیا تو آپ نے انہیں تسلی دلاتے ہوئے فرمایا کبھی ان بچوں کے فقر وفاقہ کا خوف مت کرنا میں نہ صرف اس دنیا میں ان کا ذمہ دار ہوں بلکہ اگلے جہاں میں بھی ان کا۔دوست اور ولی ہوں گا۔“ ( مسند احمد (32 ایک دفعہ ایک یتیم بچے کا حضرت ابولبابہ سے ایک کھجور کے درخت پر تنازعہ ہو گیا۔رسول اللہ نے ابولبابہ کے حق میں فیصلہ فرمایا۔یتیم بچہ رونے لگا تو رسول اللہ نے ابولبابہ کو تحریک فرمائی کہ بے شک درخت آپ کا ہے۔مگر یہ آپ اس یتیم بچے کو دے دیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس کے عوض جنت میں درخت عطا فرمائیگا۔ابولبابہ نے یہ پیشکش قبول نہ کی۔حضرت ثابت بن دحداح کو پتہ چلا تو انہوں نے ابولبابہ سے پوچھا کہ کیا تم میرے باغ کے عوض مجھے یہ درخت دے سکتے ہو۔ابولبابہ مان گئے تو حضرت ثابت بن ابو دحداح نے رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ! کھجور کا وہ درخت جو آپ نے یتیم بچے کے لئے لینا چاہا تھا اگر میں وہ لے کر پیش کر دوں تو کیا مجھے بھی اس کے عوض جنت میں درخت ملے گا۔آپ نے فرمایا ہاں۔پھر انہوں نے ایسا ہی کیا۔حضرت ابو دحداح جب شہید ہوئے تو رسول اللہ نے فرمایا ابودحداح کے لئے جنت میں کتنے ہی پھل دار درخت جھکے ہوں گے۔(استیعاب )33 آنحضرت ﷺ بیوگان اور یتامیٰ سے حسن سلوک کا خاص خیال رکھتے تھے۔ایک غزوہ سے واپسی پر جب آپ کے لشکر کے پاس پانی ختم ہو گیا تو صحابہ اس کی تلاش میں نکلے۔ایک عورت اونٹ پر پانی لاتی ہوئی ملی۔معلوم ہوا کہ بیوہ عورت ہے جس کے یتیم بچے ہیں۔رسول کریم نے دعا کر کے اس کے پانی کے اونٹ پر سے ایک مشکیزہ لے کر اس پر برکت کے لئے دعا کی پھر اس کے پانی سے تمام لشکر نے پانی لیا مگر پھر بھی وہ کم نہ ہوا۔رسول اللہ نے اس بیوہ عورت سے حسن سلوک کی خاطر صحابہ کے پاس موجود زادراہ جمع کروالی اور اس بیوہ عورت کو کھجور میں اور روٹیاں عطا کرتے ہوئے فرمایا ہم نے تمہارا پانی ذرا بھی کم نہیں کیا اور یہ زادراہ تمہارے یتیم بچوں کے لئے تحفہ ہے۔اس عورت نے اپنے قبیلہ میں جا کر کہا کہ میں ایک بڑے جادوگر کے پاس سے ہو کر آئی ہوں یا پھر وہ نبی ہے۔یوں اس عورت کی بدولت اللہ تعالیٰ نے اس قبیلہ کو ہدایت کی توفیق عطا فرمائی اور وہ مسلمان ہو گئے۔( بخاری )34 اپنے آقا کے یتامیٰ سے حسن سلوک کے پاکیزہ نمونے دیکھ کر بھی مخلص صحابہ اور صحابیات یتیم بچوں کی پرورش کی سعادت پاتے اور اپنی اولاد کی طرح محبت و پیار سے ان کی تعلیم و تربیت کرتے تھے۔مدینہ میں حضرت ابوطلحہ انصاری اور حضرت ام سلیم کے گھرانہ میں بھی ایک یتیم لڑکے اور ایک یتیم بچی کی پرورش کا ذکر ملتا ہے۔آنحضور ﷺ کا حضرت ام سلیم کے گھر آنا جانا تھا۔ایک دفعہ ان کے گھر نفل نماز با جماعت پڑھائی۔اس یتیم بچے کے بھی ساتھ باجماعت نماز پڑھنے کا ذکر ہے۔ایک دوسرے موقع پر رسول کریم ﷺ نے حضرت ام سلیم کے گھر کی یتیم بچی کو دیکھا تو محسوس کیا کہ عمدہ پرورش کے نتیجہ میں جلد جلد پروان چڑھ رہی اور تیزی سے بڑھ رہی ہے۔آپ