اسوہء انسانِ کامل — Page 443
اسوہ انسان کامل نرم خو ، نرم زبان 443 اہلی زندگی میں رسول کریم کا بہترین نمونہ جہاں تک اہل خانہ سے آپ کے حسن سلوک کا تعلق ہے آپ نے کبھی گھر والوں کو برا بھلا نہیں کہا، گالی نہیں دی۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص کی اپنے رشتہ داروں کے ساتھ بدسلوکی کا بڑے دکھ کے ساتھ ذکر فرما رہے تھے۔اتنے میں وہ شخص ملنے آگیا۔آپ اس کے ساتھ بہت نرمی اور ملاطفت سے پیش آئے۔میں نے پوچھا کہ ابھی تو آپ اس کی بدسلوکی کا تذکرہ فرمارہے تھے۔پھر اس کے ساتھ اس قدر نرم کلامی کیوں اختیار کی۔آپ نے ایک جملہ میں نہ صرف حضرت عائشہ کی حیرت کا جواب دے دیا بلکہ خوش گفتاری کی اپنی دائی صفت پر خود حضرت عائشہ کو گواہ ٹھہراتے ہوئے کیا خوب فرمایا " يَا عَائِشَةُ مَتَى عَاهَدْتَنِي فَعَاشًا اے عائشہ اس سے پہلے میں نے کب کسی سے بد کلامی کی ہے جو آج کرتا۔حضرت عائشہ فرمایا کرتی تھیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کبھی کوئی درشت کلمہ اپنی زبان پر نہ لائے۔( بخاری )8 حضرت عائشہ کی شہادت گھر یلو زندگی کے بارہ میں یہ ہے کہ نبی کریم تمام لوگوں سے زیادہ نرم خو تھے اور سب سے زیادہ کریم عام آدمیوں کی طرح بلا تکلف گھر میں رہنے والے۔آپ نے کبھی تیوری نہیں چڑھائی ہمیشہ مسکراتے رہتے تھے۔نیز آپ فرماتی ہیں کہ اپنی ساری زندگی میں آنحضرت ﷺ نے کبھی اپنی کسی بیوی پر ہاتھ اٹھایا نہ کبھی کسی خادم کو مارا۔(ترندی) حضرت خدیجہ پر آپ کے اخلاق کریمہ کا اثر آنحضرت ﷺ کی پہلی بیوی حضرت خدیجہ وہ عظیم خاتون تھیں جنھوں نے رسول کریم ﷺ کے اخلاق عالیہ سے ہی متاثر ہو کر آپ گوشادی کا پیغام بھیجا تھا۔شادی کے بعد بھی آپ کے اخلاق کریمہ کا ہی اثر تھا کہ حضرت خدیجہ نے اپنا سارا مال اور سب غلام آنحضرت ﷺ کی نذر کر دیئے اور نبی کریم نے ان سب غلاموں کو آزاد کر دیا۔(ابن ھشام ) 10 حضرت خدیجہ کی فدائیت کا یہ عالم تھا کہ وہ کبھی اپنے مال کی اس بے دریغ تقسیم پر کوئی حرف شکایت زبان پر نہیں لا ئیں۔آپ سے شکوہ نہیں کیا بلکہ ہمیشہ آپ کی تعریف میں رطب اللسان ہی رہیں اور جب تک زندہ رہیں مکہ کے شدید دور ابتلا میں آپ کی سپر اور پناہ بن کر رہیں۔رسول کریم ﷺ کے ساتھ قریباً پندرہ برس کا طویل عرصہ گزارنے کے بعد پہلی وحی کے موقع پر انہوں نے حضور ہے کے حسن معاشرت کے بارے میں جو گواہی دی وہ بی تھی۔خدا تعالیٰ کبھی آپ کو ضائع نہیں کرے گا کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے ،رشتہ داروں سے حسن سلوک فرماتے ہیں اور مہمان نواز ہیں۔“ ( بخاری ) 11 حضرت خدیجہ کی قدردانی ہمارے آقا و مولی ہے کی اہلی زندگی میں ایک نمایاں خلق یہ بھی نظر آتا ہے کہ آپ بیویوں کے نیک اوصاف کی